وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر صوبائی پولیس کی استعداد کار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد پولیس کی 10 جدید بکتر بند گاڑیاں خیبرپختونخوا پولیس کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں خیبرپختونخوا پولیس کا کردار انتہائی اہم ہے اور وفاقی حکومت ان کی ہر ممکن معاونت جاری رکھے گی۔
محسن نقوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں سکیورٹی کی موجودہ صورتحال اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کو دیکھتے ہوئے ان گاڑیوں کی فوری منتقلی عمل میں لائی گئی ہے۔ ان کا مقصد صوبے میں انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کو مزید مضبوط اور محفوظ بنانا ہے۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف ایک صوبے کی نہیں بلکہ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا پولیس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور مستقبل میں بھی سکیورٹی اداروں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑ رہی ہیں۔ ان بکتر بند گاڑیوں کی فراہمی سے پولیس اہلکاروں کو مشکل علاقوں میں آپریشنز کے دوران بہتر تحفظ حاصل ہوگا اور وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں زیادہ اعتماد کے ساتھ سرانجام دے سکیں گے۔
حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز کو دہشت گردی کے واقعات کا سامنا ہے۔ وفاقی سطح پر اس تعاون کو سکیورٹی اداروں کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس کے پاس موجود یہ بکتر بند گاڑیاں جدید سہولیات سے آراستہ ہیں جو انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں انتہائی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ ان گاڑیوں کی منتقلی سے صوبائی پولیس کے پاس موجود وسائل میں بہتری آئے گی اور آپریشنل صلاحیتیں بڑھیں گی۔
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ٹیکنالوجی اور جدید آلات کا استعمال ناگزیر ہے۔ بکتر بند گاڑیوں کی فراہمی سے پولیس کو نہ صرف بہتر نقل و حرکت میں مدد ملے گی بلکہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران اہلکاروں کی جانوں کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اس تعاون کو سکیورٹی اداروں کے مابین بہترین کوآرڈینیشن کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وفاقی وزارت داخلہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک بھر میں امن کے قیام کے لیے تمام صوبائی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے بھی وفاقی حکومت کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ صوبائی پولیس حکام کا ماننا ہے کہ ان گاڑیوں کی شمولیت سے ان کے آپریشنل فلیٹ میں بہتری آئے گی جو کہ صوبے کے دور دراز اور حساس علاقوں میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا باہمی تعاون ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ماضی میں بھی وفاقی حکومت کی جانب سے سکیورٹی فورسز کو جدید آلات کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جاتے رہے ہیں تاکہ ملک کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کیا جا سکے۔
اس اقدام سے جہاں ایک طرف سکیورٹی فورسز کا مورال بلند ہوگا وہیں دوسری طرف عوام میں بھی یہ پیغام جائے گا کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور سکیورٹی اداروں کو ہر ممکن وسائل فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
آئندہ آنے والے دنوں میں سکیورٹی کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات متوقع ہیں۔ وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس کی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔





اپنی رائے دیں