زمبابوے کی کرکٹ دنیا سے ایک افسوسناک خبر سامنے آئی ہے جہاں سابق فاسٹ بولر اور بین الاقوامی امپائر سارہ ڈمبانیوانا پیر کے روز ہرارے میں انتقال کر گئیں۔ وہ 36 برس کی تھیں اور گزشتہ کچھ عرصے سے علالت کے باعث ہسپتال میں زیرِ علاج تھیں۔
زمبابوے کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں ان کی وفات کی تصدیق کی گئی ہے۔ سارہ ڈمبانیوانا رواں سال مارچ میں ایک طبی عمل سے گزرنے کے بعد سے مسلسل طبی نگرانی میں تھیں، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
سارہ ڈمبانیوانا نے اپنے کرکٹ کیریئر کا آغاز ایک کھلاڑی کی حیثیت سے کیا تھا۔ انہوں نے 2009 سے 2014 کے دوران زمبابوے کی قومی ٹیم کی نمائندگی کی، جس میں 2011 کا ورلڈ کپ کوالیفائر بھی شامل تھا جہاں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
بطور کھلاڑی ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے امپائرنگ کے شعبے میں قدم رکھا اور جلد ہی اپنی قابلیت کی بدولت عالمی سطح پر پہچان بنائی۔ 2022 میں انہیں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے امپائرز کے ڈیولپمنٹ پینل میں شامل کیا گیا تھا۔
ان کے بین الاقوامی امپائرنگ کیریئر کا باقاعدہ آغاز 2 ستمبر 2023 کو ہوا۔ اپنی مختصر مگر شاندار امپائرنگ کیریئر میں انہوں نے مجموعی طور پر 63 سینئر بین الاقوامی میچز میں ذمہ داریاں نبھائیں، جو ان کی پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
سارہ ڈمبانیوانا کی امپائرنگ کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو انہوں نے خواتین کے 42 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اور 11 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں امپائرنگ کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے مردوں کے 10 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں بھی فرائض انجام دیے۔
ان کی زندگی کا ایک یادگار لمحہ جنوبی افریقا میں منعقدہ 2023 کے انڈر 19 ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فائنل تھا، جس میں بھارت اور انگلینڈ کی ٹیمیں مدمقابل تھیں۔ اس میچ میں امپائرنگ کر کے وہ کسی بھی ورلڈ کپ فائنل میں امپائرنگ کرنے والی زمبابوے کی پہلی خاتون بنیں۔
عالمی سطح پر ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں اہم ٹورنامنٹس کے لیے منتخب کیا گیا۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 میں بھی اپنی امپائرنگ کے جوہر دکھائے اور کرکٹ حلقوں میں داد وصول کی۔
سارہ ڈمبانیوانا ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ 2025 کے لیے مقرر کردہ امپائرز اور میچ آفیشلز کے اس تاریخی پینل کا بھی حصہ تھیں جو مکمل طور پر خواتین پر مشتمل تھا۔ اس ٹورنامنٹ کے دوران انہوں نے بھارت اور سری لنکا میں منعقدہ میچز میں امپائرنگ کی تھی۔
ملکی کرکٹ کے ساتھ ساتھ عالمی یوتھ ٹورنامنٹس میں بھی ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے نہ صرف زمبابوے بلکہ عالمی کرکٹ میں خواتین امپائرز کے لیے ایک مثال قائم کی۔
ان کی وفات پر کرکٹ برادری کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ساتھی امپائرز، کھلاڑیوں اور کرکٹ بورڈ کے حکام نے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
سارہ ڈمبانیوانا کا انتقال کرکٹ کی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ ان کی وفات سے ایک ایسا سفر ختم ہوا جس نے زمبابوے کی کرکٹ میں خواتین کی شمولیت اور امپائرنگ کے معیار کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
ان کی وفات پر زمبابوے کرکٹ بورڈ نے بھی گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔ ان کی یادگار خدمات کو ہمیشہ کرکٹ کی تاریخ میں سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا اور وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہترین مثال کے طور پر موجود رہیں گی۔





اپنی رائے دیں