مواد پر جائیں
منگل، 13 اکتوبر 2026 رات 3:13 2 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 2:57
بریکنگ
خیبرپختونخوا: تعلیمی ادارے اور بی آر ٹی سروس بحال، حالات معمول پرخیبرپختونخوا میں بے امنی کا پروپیگنڈا، وزارت اطلاعات نے حقائق واضح کر دیےخیبرپختونخوا میں بدامنی کا تاثر: سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد پھیلانے کا انکشافافغان سرزمین کا استعمال روکنا طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے: وزارت اطلاعاتصدر مملکت آصف علی زرداری نے سینٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیاکوئٹہ: میر ہوٹل کے قریب پولیس موبائل پر حملہ، ایک اہلکار شہید، 4 زخمیجدید چینی مائیکرو ڈرامے: سماجی تبدیلی اور بدلتی ہوئی لسانیات کا عکاسخوشحالی کی خواہش اور ہجرت سے ہجر تک کا سفربھارتی فلم ‘دوسرا’ کے ٹریلر پر انیل کپور اور روہت شرما کا ردعملبالی ووڈ اداکارہ بپاشا باسو 6 سال بعد اسکرین پر واپسی کے لیے تیارزمبابوے کی سابق فاسٹ بولر اور معروف امپائر سارہ ڈمبانیوانا انتقال کر گئیںپشاور: تمام تعلیمی ادارے 13 اکتوبر کو معمول کے مطابق کھلے رہیں گےوفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا پولیس کو 10 بکتر بند گاڑیاں فراہم کرنے کا فیصلہکراچی میں عالمی تعلیمی کانفرنس، 34 ممالک کے ماہرین کی شرکتمیئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا ناتھا خان لنک روڈ کا دورہ، جلد کھولنے کا اعلانسندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا انتظامی ڈھانچہ تبدیل، 25 ٹاؤنز میں تقسیمواٹس ایپ میں میسجز شیڈول کرنے کا نیا فیچر متعارف کرانے کی تیاریخیبرپختونخوا سے متعلق سوشل میڈیا پر گمراہ کن مہم کا انکشافیمن میں فوجی مداخلت پر حوثیوں کی امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکیپی ٹی آئی خیبرپختونخوا کابینہ کا گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر جمہوری قرار
رات 3:1313 اکتوبر
پاکستان

کراچی میں عالمی تعلیمی کانفرنس، 34 ممالک کے ماہرین کی شرکت

کانفرنس کے اختتامی اعلامیے میں خوارج اور تکفیری نظریات کو امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

کراچی میں عالمی تعلیمی کانفرنس، 34 ممالک کے ماہرین کی شرکت

کراچی میں رابطہ عالم اسلامی اور لیگ آف اسلامک یونیورسٹیز کے زیر اہتمام دو روزہ عالمی تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں 34 ممالک کی جامعات کے سربراہان اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔ یہ تقریب جامعۃ الرشید اور جامعہ الغزالی کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔

کانفرنس میں سعودی عرب، مصر، ترکیہ، امریکا، تیونس، لیبیا اور ملائیشیا سمیت دنیا بھر سے علمی قیادت شریک ہوئی۔ اختتامی تقریب میں گورنر سندھ، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اور احسن اقبال سمیت اہم حکومتی شخصیات نے بھی شرکت کی اور خطاب کیا۔

کانفرنس کے اختتامی اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ پورا عالم اسلام دہشت گردی اور خوارج کے خلاف متحد ہے۔ حرمین شریفین کا تحفظ اور امن امت مسلمہ کی ریڈ لائن ہے اور تکفیری گروہوں کو وحدت کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا گیا۔

تقریب کے دوران جامعہ الازہر مصر اور جامعہ الغزالی کراچی کے مابین مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کا مقصد طلبہ کے تبادلے اور تعلیمی تعاون کو فروغ دینا ہے تاکہ جدید علوم میں مہارت حاصل کی جا سکے۔

جامعہ الغزالی کے رئیس مفتی عبدالرحیم اور جامعہ الازہر کے شیخ محمود الصدیق کو پی ایچ ڈی کی اعزازی اسناد سے نوازا گیا۔ اس موقع پر فیملی بزنس، سیرت چیئر اور قرآن و سائنس سمیت چار نئے دفاتر کا افتتاح بھی کیا گیا۔

گورنر سندھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ امت مسلمہ کا اصل سرمایہ اساتذہ اور علما ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلم دنیا کو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور تحقیق کے شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو مزید مستحکم کرنا چاہیے۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ مسلم ممالک کو درپیش چیلنجز پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں مسلم علما نے طب، ریاضی اور فلکیات میں جو خدمات انجام دیں، آج اسی روایت کو جدید دور میں اپنانے کی ضرورت ہے۔

صدر جامعہ الازہر شیخ محمود الصدیق نے کہا کہ عالم اسلام کا عروج صرف عقلی علوم تک محدود نہیں بلکہ جدید سائنسی علوم میں مہارت حاصل کرنے سے ممکن ہے۔ انہوں نے علمی و تحقیقی تعاون کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔

ڈاکٹر سامی الشریف نے مصنوعی ذہانت کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقابلہ صرف مشترکہ علمی اتحاد کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ کانفرنس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تعلیم ہی تمام مسائل کا واحد حل ہے۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم دنیا کی جامعات کے درمیان طلبہ اور اساتذہ کے وفود کے تبادلوں کو بڑھایا جائے۔ اس عملی شراکت داری سے امت مسلمہ کو درپیش تعلیمی اور سماجی مسائل کا مؤثر حل تلاش کیا جا سکے گا۔

مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ یہ کانفرنس 1974 کے تاریخی اسلامی سربراہی اجلاس کے بعد ایک بڑی تعلیمی پیش رفت ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ عالم اسلام میں بدامنی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک نظام تعلیم کا بگاڑ بھی ہے۔

کانفرنس میں شریک مندوبین نے پاکستان کے تعلیمی اداروں کے ساتھ نصاب کی فراہمی اور تحقیقی اشاعتوں میں تعاون کرنے کی پیشکش کی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوانوں کو انتہا پسندی سے دور رکھ کر اخلاقی اقدار کی طرف لایا جائے گا۔

تقریب کے اختتام پر مسلم دنیا کے مختلف خطوں سے آئے ہوئے علما نے مشترکہ طور پر تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرنے کا اعادہ کیا۔ کانفرنس کے شرکاء نے غزہ میں جاری صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور امن کے قیام پر زور دیا۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں