مواد پر جائیں
منگل، 13 اکتوبر 2026 رات 3:59 2 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:56
بریکنگ
خیبرپختونخوا: تعلیمی ادارے اور بی آر ٹی سروس بحال، حالات معمول پرخیبرپختونخوا میں بے امنی کا پروپیگنڈا، وزارت اطلاعات نے حقائق واضح کر دیےخیبرپختونخوا میں بدامنی کا تاثر: سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد پھیلانے کا انکشافافغان سرزمین کا استعمال روکنا طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے: وزارت اطلاعاتصدر مملکت آصف علی زرداری نے سینٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیاکوئٹہ: میر ہوٹل کے قریب پولیس موبائل پر حملہ، ایک اہلکار شہید، 4 زخمیوفاقی حکومت کی جانب سے اہم سرکاری افسران کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاریسعودی عرب ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، سلمان الدوسریترکیہ سعودی عرب پر غیر انسانی حملوں کے خلاف اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے: طیب اردگانوفاقی آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں کیلئے واجب التعمیل ہیں، جسٹس سید حسن اظہر رضویوزیراعظم شہباز شریف کی امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی خواہشکراچی: کے ڈی اے کے 3 ملازمین کو پلاٹ کی غیر قانونی تبدیلی پر شوکاز نوٹس جاریصدر مملکت نے چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کے بیرون ملک دوروں کی منظوری دے دیکراچی: شہید ملت روڈ پر آن لائن رائیڈر سے موٹر سائیکل اور موبائل فون چھین لیا گیاجدید چینی مائیکرو ڈرامے: سماجی تبدیلی اور بدلتی ہوئی لسانیات کا عکاسخوشحالی کی خواہش اور ہجرت سے ہجر تک کا سفربھارتی فلم ‘دوسرا’ کے ٹریلر پر انیل کپور اور روہت شرما کا ردعملبالی ووڈ اداکارہ بپاشا باسو 6 سال بعد اسکرین پر واپسی کے لیے تیارزمبابوے کی سابق فاسٹ بولر اور معروف امپائر سارہ ڈمبانیوانا انتقال کر گئیںپشاور: تمام تعلیمی ادارے 13 اکتوبر کو معمول کے مطابق کھلے رہیں گے
رات 3:5913 اکتوبر
پاکستان بریکنگ نیوز

کوئٹہ: میر ہوٹل کے قریب پولیس موبائل پر حملہ، ایک اہلکار شہید، 4 زخمی

نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں پولیس کانسٹیبل جام شہادت نوش کر گئے، زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کوئٹہ: میر ہوٹل کے قریب پولیس موبائل پر حملہ، ایک اہلکار شہید، 4 زخمی

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں نامعلوم مسلح ملزمان نے پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ شہید امیر محمد دستی پولیس تھانے کی حدود میں میر ہوٹل کے قریب ہوا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایس ایچ او سیٹیلائٹ ٹاؤن کی گاڑی معمول کے گشت پر تھی کہ اچانک فائرنگ کر دی گئی۔

اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں ایک پولیس کانسٹیبل موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ دیگر 4 اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے والے اہلکاروں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

واقعے کے بعد پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملہ آوروں کا سراغ لگایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس اہلکاروں پر حملہ انتہائی قابل مذمت عمل ہے اور اس سے امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

شاہد رند نے مزید کہا کہ شہید ہونے والے پولیس کانسٹیبل کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ زخمی اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے اور واقعے کی تحقیقات کا عمل جاری ہے۔

کوئٹہ میں سیکیورٹی کے حوالے سے حکام الرٹ ہیں اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل سخت کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے ایسے واقعات حوصلے پست نہیں کر سکتے اور سیکیورٹی فورسز اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھیں گی۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کو اکثر اس طرح کے چیلنجز کا سامنا رہتا ہے تاہم پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ واقعے کے بعد شہر میں سیکیورٹی کے مزید انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

پولیس کے اعلیٰ حکام نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان کی شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پائی جا رہی ہے جبکہ پولیس کی جانب سے تفتیش کو تیز کر دیا گیا ہے۔

سیاسی و سماجی حلقوں نے بھی اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ کوئٹہ میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدباب ممکن ہو سکے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی گئی ہے اور متعلقہ ہسپتال کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ زخمیوں کو علاج معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔ پولیس کی جانب سے واقعے کا مقدمہ درج کرنے کی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں امن کو برقرار رکھنے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی ضرورت ہے۔ پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن سے ہی ایسے واقعات کو روکا جا سکتا ہے جو شہریوں اور فورسز کے لیے نقصان دہ ہیں۔

حکومت بلوچستان نے اس واقعے کے بعد سیکیورٹی پلان پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس کے دستوں کو مزید مستعد رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ کیا جا سکے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں