پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں امن و امان کی بحالی اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن کے معاملے پر کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا کی زیر صدارت قائم کی گئی 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کا پہلا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کے موجودہ حالات، ترقیاتی امور اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا اور اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ہمیں اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے لیکن عوام اور وفاق نے ہم پر جو اعتماد ظاہر کیا ہے اس پر پورا اترنے کے لیے بھرپور کوششیں بروئے کار لائی جائیں گی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ محض کمیٹیاں بنا کر معاملات کو فراموش کرنے کا رواج ختم کیا جائے گا بلکہ ہر فیصلے پر عملی اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ صوبے کے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ صوبے میں امن سب سے پہلے ہے اور ترقیاتی کام یا دیگر امور اس کے بعد آتے ہیں، اس لیے تمام تر توجہ ریاست کی رٹ کو مضبوط بنانے پر مرکوز رکھی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے جہاں پانی کی فراوانی کے ساتھ گیس کی پیداوار بھی سب سے زیادہ ہے، اور اگر دوسرے صوبوں میں کوئی اچھے اقدامات کیے جا رہے ہیں تو انہیں یہاں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے ایڈوائزری کونسل کے اراکین کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ چوبیس گھنٹے عوام کی خدمت کے لیے دستیاب ہیں اور صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مل کر کام کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ کسی قسم کی سیاسی بحث یا الزام تراشی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے بلکہ ان کا واحد مقصد خیبرپختونخوا کے عوام کو امن، ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن کرنا ہے۔
دہشتگردی کے خلاف جنگ کا ذکر کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ اس طویل اور مشکل جنگ میں کے پی کے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ یہاں کے باسیوں کو مکمل امن کا حق دیا جائے اور دہشتگردی کے پورے نیٹ ورک یا اس کے سہولت کاروں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔
گورنر نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں ریاست کی موجودگی کو مزید موثر بنایا جائے گا۔
انہوں نے پولیس فورس کو جدید وسائل فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ہر پولیس اہلکار کے پیچھے ریاست مضبوطی کے ساتھ کھڑی نظر آئے تاکہ وہ خوفگیں ہوئے بغیر فرائض انجام دیں۔
صوبے میں انسداد دہشتگردی کے اقدامات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ محکمہ انسداد دہشتگردی یعنی سی ٹی ڈی کو بھی پولیس کے شانہ بشانہ مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے گا تاکہ تخریب کاروں کا قلع قمع کیا جا سکے۔
قومی ایکشن پلان اور انسداد دہشتگردی کی قومی پالیسی پر عملدرآمد کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشتگردی کے تمام تر ماحولیاتی نظام اور معاونین کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انہوں نے نوجوان نسل کے مستقبل کے حوالے سے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق کی بجائے قلم، کتاب اور روشن مستقبل کی امید تھمائے تاکہ وہ معاشرے کے مفید شہری بنیں۔
گورنر نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ صوبے میں سیاحت کے شعبے کو وسعت دی جائے گی اور اس کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے تاکہ معیشت کو بھی استحکام مل سکے۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ امن کے اس سفر میں قانون نافذ کرنے مشستری اداروں کا ساتھ دیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا دہشتگردوں کے سہولت کاروں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو فراہم کریں۔
آخر میں گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ مشکلات یقیناً بڑی ہیں لیکن عوام کا عزم ان سے بھی زیادہ مضبوط ہے، اور وہ دن دور نہیں جب کے پی کے میں مکمل امن بحال ہوگا اور قانون کی حکمرانی قائم ہوگی۔





اپنی رائے دیں