پشاور میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ نے سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے شہر بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ اس پابندی کا مقصد کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنا اور سکیورٹی کو فول پروف بنانا ہے۔ ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق اس حکم نامے کا نفاذ فوری طور پر ہو چکا ہے جس کے تحت شہر کی حدود میں ہر قسم کے عوامی اجتماعات اور دھرنوں پر مکمل پابندی ہوگی۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق پشاور میں کسی بھی مقام پر جلسے، جلوس، اور احتجاجی مظاہرے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واضح کیا ہے کہ شہر میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کے روزمرہ کے امور میں کوئی خلل نہ پڑے۔
اعلامیے میں اس بات پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے کہ پشاور میں دفعہ 144 کے نفاذ کے دوران کسی بھی عوامی مقام پر 5 سے زیادہ افراد کے اکٹھے ہونے پر بھی پابندی ہوگی۔ اگر کہیں بھی مقررہ تعداد سے زائد افراد غیر قانونی طور پر جمع ہوں گے تو ضلعی انتظامیہ فوری طور پر قانونی کارروائی عمل میں لائے گی۔
شہر میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر کے احکامات میں اسلحہ کی نمائش پر بھی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ کسی بھی شہری کو پشاور کی حدود میں ہتھیار ساتھ لے کر چلنے یا اس کی نمائش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ جو بھی شخص یا گروہ اس حکم نامے کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا، اس کے خلاف کسی بھی قسم کی رعایت کے بغیر فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس ضمن میں تمام تھانوں کو خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
انتظامیہ نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوج داری دفعات کے تحت مقدمات درج کرنے کا تہیہ کیا ہے۔ قانون شکن عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا تاکہ شہر میں امن اور قانون کی حکمرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے اور قانون ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہ ہو۔
پشاور کی انتظامیہ نے شہر کے تمام باسیوں اور بالخصوص سیاسی و سماجی حلقوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ امن عامہ کے قیام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ضلعی احکامات کی پاسداری کرتے ہوئے کسی بھی غیر قانونی اجتماع کا حصہ نہ بنیں۔
شہر بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور حساس مقامات پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نبرد آزما ہوا جا سکے۔
صوبائی دارالحکومت میں اس طرح کے انتظامی اقدامات کا بنیادی مقصد شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور شہر میں معمول کی زندگی کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے۔ ضلعی حکام کی جانب سے جاری کردہ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں۔
پشاور کے مختلف علاقوں میں انتظامی احکامات کی خلاف ورزی کی روک تھام کے لیے گشت بڑھا دیا گیا ہے اور داخلی و خارجی راستوں پر بھی سخت چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ امن دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوٹی جائے گی۔
عوام کی جانب سے بھی انتظامیہ کے اس قدم کو سراہا جا رہا ہے تاکہ شہر میں کسی بھی قسم کی بدنظمی یا انتشار کو روکا جا سکے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ عزم ہے کہ قانون کی بالادستی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا اور کسی کو بھی امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبے کے بڑے شہر میں اس قبل بھی حالات کی بہتری کے لیے ایسے احکامات جاری کیے جاتے رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر آفس سے جاری کردہ اعلامیہ میں تمام شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے احکامات پر سختی سے عمل کریں۔
حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پشاور میں نافذ کی جانے والی دفعہ 144 کے نفاذ کی مدت کے دوران تمام متعلقہ محکمے ہائی الرٹ پر ہیں۔ انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فرد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں گی۔





اپنی رائے دیں