خیبر پختونخوا کے علاقے ٹانک میں یومِ نجات کے موقع پر شہریوں میں شدید جوش و خروش اور ولولہ پایا جا رہا ہے جہاں یہ دن بھرپور خوشی کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ شہر کی فضاؤں میں خوشی کے نعرے گونج رہے ہیں اور ہر طرف ایک جشن کا سا سماں دکھائی دے رہا ہے۔
اس پرمسرت موقع پر مقامی شہریوں کی جانب سے مٹھائیاں تقسیم کرنے کا سلسلہ جاری ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلا کر اپنی دلی خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس دن کی مناسبت سے عوامی سطح پر تقریبات اور اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں۔
یومِ نجات کی ان تقریبات میں شرکت کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں اور مقامات پر موجود ہے جو اس دن کو اپنی امیدوں اور خوشیوں کی ایک نئی علامت قرار دے رہے ہیں۔ شہریوں کے چہروں پر موجود مسکراہٹیں ان کے پرجوش جذبات کی بھرپور عکاسی کر رہی ہیں۔
مقامی سطح پر اس دن کو نئے دور کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں عوام آنے والے وقت کو مثبت تبدیلیوں اور نئی امیدوں کے تناظر میں پرکھ رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ دن ان کے لیے ایک نئے اور بہتر مستقبل کی نوید لے کر آیا ہے۔
ٹانک کے مختلف مقامات پر اس حوالے سے خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے جہاں لوگوں کا ہجوم اس خوشی میں شریک ہے۔ مٹھائیوں کے تبادلے اور باہمی میل ملاقات سے علاقے میں بھائی چارے اور خوشی کا ماحول قائم ہو گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ ٹانک میں منایا جانے والا یہ یومِ نجات یہاں کے مکینوں کے لیے ترقی، امن اور خوشحالی کا نیا باب ثابت ہوگا۔ اس موقع پر تمام مکینوں نے ایک نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
شہریوں کا یہ جوش اور ولولہ اس بات کا غماز ہے کہ وہ مشکلات سے نکل کر اب ایک روشن اور پرامن مستقبل کی طرف گامزن ہیں۔ اس دن کی تقریبات میں ہر مکتبہ فکر کے افراد نے بھرپور شرکت کی ہے۔
ٹانک کی انتظامیہ اور مقامی عمائدین بھی اس موقع پر عوامی خوشیوں میں برابر کے شریک ہیں اور اس دن کو تاریخی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔ شہریوں کا یہ جوش و خروش آنے والے دنوں میں بھی جاری رہنے کی توقع ہے۔
شہر کے بازاروں اور گلیوں کو بھی اس خاص دن کی مناسبت سے سجایا گیا ہے جہاں دکان دار اور خریدار سبھی اس خوشی میں برابر کے شریک دکھائی دے رہے ہیں۔ چھوٹے بچوں اور نوجوانوں میں بھی اس موقع پر خاصا جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔
مقامی سطح پر لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دن منانے سے معاشرے میں اتفاق اور یکجہتی کو فروغ ملتا ہے۔ سبھی افراد اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پائیدار امن اور ترقی ہی اصل منزل ہے۔
معاشی اور سماجی سرگرمیوں سے جڑے افراد کا بھی ماننا ہے کہ ٹانک میں حالات کی بہتری سے کاروبار اور روزگار کے مواقع بھی بہتر ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر طبقے کے افراد اس جشن میں پوری دلجمعی کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں۔
خواتین اور بزرگوں نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس دن کو تاریخی قرار دیا اور امن کے قیام کے لیے کوششیں کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
اختتامی لمحات میں شہریوں کی جانب سے ملک و قوم کی سلامتی اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں بھی مانگی گئیں اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ باہمی اتحاد سے ہی تمام منزلیں آسان کی جا سکتی ہیں۔





اپنی رائے دیں