ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کے تناظر میں وفاقی حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے ساتھ رابطوں کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ رابطہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران کیا گیا جس میں ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کابینہ کے اجلاس میں یہ تجویز سامنے آئی کہ کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کی ایک اور کوشش کی جانی چاہیے۔
اس گفتگو کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جاری قومی کوششوں میں وفاق کا بھرپور ساتھ دے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ امن و امان کے قیام کے لیے تمام اکائیوں کا تعاون ناگزیر ہے۔
دوسری جانب مولانا فضل الرحمان نے بھی اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر سے دوبارہ ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے اور انہیں حکومت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے حوالے سے اعتماد میں لیا ہے۔
جے یو آئی کے سربراہ نے اس سے قبل اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ مذاکرات کے حوالے سے معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی گئی تو ان کی جماعت اس کی بھرپور مخالفت کرے گی۔
مولانا فضل الرحمان کی جانب سے آج شام ایک پریس کانفرنس متوقع ہے۔ اس پریس کانفرنس میں وہ اپنے حالیہ سیاسی رابطوں اور اپوزیشن کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے اہم نکات سے میڈیا اور قوم کو آگاہ کریں گے جس پر سیاسی حلقوں کی نظریں جمی ہیں۔
ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے مولانا فضل الرحمان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خلیج کو کم کرنے کے لیے متحرک دکھائی دیتے ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے ساتھ رابطوں کا یہ عمل ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب ملک کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر سیاسی استحکام کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز سے قومی مفاد میں تعاون کی اپیل کی جا رہی ہے۔
خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال اور انتظامی امور پر بھی وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ وفاقی وزراء کا ماننا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اسد قیصر سے رابطہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اپوزیشن کے اندر بھی معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی خواہش موجود ہے۔ آنے والے چند گھنٹے ملکی سیاست کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
وفاقی کابینہ کا اجلاس ملکی داخلی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیا تھا جس میں معاشی اور سیاسی امور پر بھی غور کیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی غیر ضروری تصادم سے بچنے کے لیے تمام آئینی راستے اختیار کرنے پر یقین رکھتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کی پریس کانفرنس کے بعد سیاسی منظر نامے میں مزید وضاحت آنے کی توقع ہے۔ عوام اور سیاسی مبصرین اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا یہ رابطے کسی بڑے سیاسی معاہدے یا مفاہمت کی طرف لے کر جائیں گے یا نہیں۔
ملک کے موجودہ حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے رابطوں کا یہ عمل اسی سمت میں ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔





اپنی رائے دیں