بولی وڈ کی معروف اداکارہ تنوشری دتہ نے بھارتی فلم انڈسٹری کے سینئر اداکار نانا پاٹیکر کی مبینہ موت کی خبر پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔ اداکارہ نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کیا جو دیکھتے ہی دیکھتے انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئے اور مداحوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔
تنوشری دتہ نے فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا جس میں وہ مہاکال کی مورتی کے سامنے پوجا پاٹ کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ انہوں نے ایک طویل اور تفصیلی کیپشن بھی تحریر کیا جس میں ماضی کے تلخ تجربات اور الزامات کا کھل کر ذکر کیا گیا۔
اداکارہ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ مہاکال بابا نے ہی ان کی جان پر ہونے والے مبینہ حملوں اور مختلف مشکلات سے ان کی حفاظت فرمائی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں نانا پاٹیکر اور ان کے مبینہ ساتھیوں کی طرف سے شدید ذہنی دباؤ اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
تنوشری دتہ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ حیرت انگیز طور پر انہیں اپنی زندگی میں اتنی بڑی مثبت تبدیلی کے فوراً بعد مہاکال کے درشن کرنے کا مبارک موقع ملا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ انہیں اب بھی اس خبر کی صداقت پر مکمل یقین نہیں ہے لیکن وہ دل سے دعا گو ہیں۔
اداکارہ نے امید کا اظہار کیا کہ اگر یہ خبر سچی ہے تو وہ مبینہ شیطان واقعی اس دنیا سے جا چکا ہے اور ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی زندگی میں موجود تمام تر منفی اور برے اثرات کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے۔
تنوشری دتہ نے مزید لکھا کہ وہ مہاکال سے التجا کرتی ہیں کہ اگر وہ ان سے محبت کرتے ہیں تو ان تمام عناصر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں جنہوں نے انہیں ماضی میں شدید تکلیفیں پہنچائی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام لوگوں کے مبینہ مددگار اور حمایتی بھی اب منظر سے ہٹ جانے چاہئیں۔
اداکارہ نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ اگر یہ تمام منفی لوگ زندہ رہے تو شاید وہ خود اس دنیا میں زیادہ دیر نہ رہ سکیں گی کیونکہ وہ اب مزید سازشیں برداشت نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان تمام معاملات کی مکمل اور حتمی تصدیق ہونی چاہیے تاکہ ان کی زندگی میں سکون آ سکے۔
واضح رہے کہ سال دو ہزار نو میں فلم ہارن اوکے پلیز کے شوٹنگ کے دوران تنوشری دتہ نے نانا پاٹیکر پر سنگین نوعیت کے جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔ یہ معاملہ طویل عرصے تک دبا رہا لیکن دو ہزار اٹھارہ میں جب عالمی سطح پر می ٹو تحریک چلی تو یہ دعویٰ ایک بار پھر پوری شدت کے ساتھ سامنے آیا۔
اس مبینہ واقعے کے بعد نانا پاٹیکر کے خلاف باقاعدہ طور پر ایف آئی آر بھی درج کروائی گئی تھی جس کی وجہ سے بھارتی میڈیا میں ہلچل مچ گئی تھی۔ تاہم معروف اداکار نے ہمیشہ کی طرح تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا تھا اور انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔
سن دو ہزار انیس کے دوران بھارتی تفتیشی اداروں اور پولیس کو اس معاملے میں قانون کے مطابق ناکافی شواہد ملے جس کی بنا پر عدالت میں کیس بند کر دیا گیا تھا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں اداکار کو قانونی محاذ پر بڑی راحت ملی تھی اور معاملہ کسی انجام تک پہنچا تھا۔
بعد ازاں سن دو ہزار پچیس میں ممبئی کی اندھیری مجسٹریٹ عدالت نے اس قانونی مقدمے کی مقررہ مدت ختم ہونے کا اعلان کیا۔ عدالت نے قانونی مدت پوری ہونے کی بنیاد پر نانا پاٹیکر کے خلاف جاری فوجداری کارروائی کو باضابطہ طور پر خارج کر دیا تھا۔
تنوشری دتہ کی اس تازہ ترین سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد بھارتی فلم نگری اور سوشل میڈیا پر ایک بار پھر پرانی بحثیں تازہ ہو گئی ہیں۔ مداح اور سوشل میڈیا صارفین اس پورے معاملے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں اور مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
اس معاملے پر دیگر فنکاروں کا بھی ماضی میں مختلف موقف سامنے آتا رہا ہے اور بولی وڈ کے اندرونی حالات پر بھی وقتاً فوقتاً بحث ہوتی رہتی ہے۔ سینیئر فنکاروں اور شوبز شخصیات کے درمیان اس نوعیت کے تنازعات نے ہمیشہ فلمی صنعت کے ماحول کو متاثر کیا ہے اور عدالتی کارروائیوں کے باوجود اس طرح کے معاملات طویل عرصے تک عوامی بحث کا حصہ بنے رہتے ہیں۔





اپنی رائے دیں