اسلام آباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک اہم اور سخت فیصلہ کرتے ہوئے ریپ کے جھوٹے مقدمات درج کرانے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس حوالے سے وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے باضابطہ طور پر اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ اس قبیح فعل کی حوصله شکنی کی جا سکے اور قانون کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
ڈی آئی جی اسلام آباد علی وسیم نے اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت یہ اہم فیصلہ صادر کیا ہے جس کا بنیادی مقصد معاشرے میں قانون کے غلط استعمال کو سختی سے روکنا ہے۔ پولیس حکام کا ماننا ہے کہ اس طرح کے منفی ہتھکنڈوں سے نہ صرف عدالتی نظام متاثر ہوتا ہے بلکہ حقیقی متاثرین کو انصاف کی فراہمی میں بھی شدید مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
حالیہ فیصلے کے تحت ابتدائی طور پر 7 کیسز کے مدعیان اور ان کے گواہان کے خلاف فوری طور پر مقدمات درج کرنے کی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ پولیس کی جانب سے یہ اقدام ان افراد کے خلاف اٹھایا جا رہا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر جھوٹے الزامات عائد کیے تھے اور قانون کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔
تفصیلات کے مطابق یہ کارروائی ان افراد کے خلاف بھی کی جا رہی ہے جو مبینہ طور پر بڑی رقوم کے عوض ملزمان کے حق میں عدالت یا تفتیشی حکام کے سامنے بیانات دیتے ہیں۔ ایسے مشکوک بیانات کی بنیاد پر سنگین نوعیت کے مقدمات کو خارج کرایا جاتا ہے جو قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ڈی آئی جی علی وسیم نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ریپ جیسے انتہائی سنگین جرم کا بے بنیاد الزام لگا کر ذاتی مفادات حاصل کرنے والوں کو اب قانون کی گرفت سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔ قانون کا اس طرح استحصال کرنے والے کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت کی جانے والی ان سخت کارروائیوں کا بنیادی مقصد انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا اور قانونی عمل کی شفافیت کو ہر صورت یقینی بنانا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا عزم ہے کہ ایسے عناصر کا سختی سے تعاقب کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی اس قسم کی جرات نہ کر سکے۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور خواتین کی عزت و وقار کی پاسداری اداروں کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ اس پالیسی پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی فرد کو قانون کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور شہریوں کے حقوق کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔
حقیقی نوعیت کے سنگین جرائم کا شکار ہونے والے مظلوم افراد کو بروقت اور منصفانہ انصاف کی فراہمی کے لیے پولیس کا یہ قدم انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد مزید بحال ہوگا اور انصاف کی فراہمی کا عمل بہتر ہوگا۔
معاشرتی سطح پر اس فیصلے کو مثبت انداز میں سراہا جا رہا ہے کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جھوٹے مقدمات کی وجہ سے اصل ملزمان قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں اور بے گناہ افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اب اس منفی رجحان کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ معاشرے میں قانون کی حکمرانی قائم رہ سکے۔
پولیس حکام نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ بھی اس قسم کے معاملات میں ملوث پائے جانے والے تمام افراد کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ قانونی ٹیمیں اس حوالے سے تمام دستیاب شواہد اور ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں تاکہ کوئی قانونی سقم نہ رہے۔
عدالتی اور انتظامی امور سے وابستہ شخصیات کا بھی یہی کہنا ہے کہ اینٹی ریپ ایکٹ کے موثر نفاذ سے اس طرح کے جرائم اور جھوٹی ایف آئی آر درج کرانے کے رجحان میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ قوانین کا درست اور منصفانہ استعمال ہی معاشرتی اصلاح اور امن عامہ کی بہترین ضمانت فراہم کرتا ہے۔
اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر فوری عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے تاکہ متعلقہ تھانوں میں نامزد افراد کے خلاف فوری طور پر قانونی کارروائی کا آغاز کیا جا سکے اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ اس سلسلے میں کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہ لانے کا تہیہ کیا گیا ہے۔
یہ اقدامات وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی فضا کو بہتر بنانے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے اور جرم یا جھوٹے الزام میں ملوث ہر شخص کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔





اپنی رائے دیں