پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں سہیل آفریدی کی کارکردگی اور ملکی سیاسی منظرنامے پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کی کارکردگی کے حوالے سے لوگوں کی آراء مختلف ہو سکتی ہیں، تاہم یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ وہ خیبرپختونخوا سمیت پورے پاکستان میں عوام کی نظر میں ایک ہیرو بن چکے ہیں۔
انہوں نے حکومتی حلقوں کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جن شخصیات کو گرفتار کیا جاتا ہے، وہ عوام کی نظروں میں ہیرو کا درجہ حاصل کر لیتی ہیں اور حکمرانوں کی سوچ میں اتنا بڑا خلیج کیوں ہے۔
سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے اسد عمر نے یاد دلایا کہ آج سے ٹھیک 27 سال قبل دو تہائی اکثریت رکھنے والے وزیراعظم نواز شریف کو گرفتار کر کے اسمبلی تحلیل کر دی گئی تھی جو ملکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان تمام برسوں میں سیاست دانوں نے ماضی کے واقعات سے نہ تو کچھ سیکھا ہے اور نہ ہی ان کا مستقبل میں کچھ سیکھنے کا کوئی ارادہ دکھائی دیتا ہے جس کا خمیازہ قوم بھگت رہی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ اسی طرح باری باری سب کو رگڑا ملتا رہے گا اور یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے، تاہم ان کا ماننا ہے کہ ان لوگوں کی باری بھی دوبارہ آئے گی جو آج اقتدار میں ہیں۔
اسد عمر نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو جمہوریت کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور خطرناک قدم قرار دیا اور کہا کہ اس سے صوبائی خود مختاری اور جمہوری اقدار کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی منتخب حکومت کو ہٹانے کا آئینی اور قانونی حق صرف اور صرف عوام کے پاس ہے، جو اپنے ووٹ کے ذریعے فیصلہ کرتے ہیں کہ کون ان پر حکومت کرے گا۔
سابق صدر مملکت عارف علوی کے حوالے سے بھی انہوں نے بات کی اور کہا کہ جمہوری عمل کا تسلسل ہی پاکستان کی ترقی اور استحکام کی واحد ضمانت ہے، جس سے انحراف ملک کو مزید بحرانوں میں دھکیل سکتا ہے۔
اسد عمر کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ایک طرف سیاسی انتقام کے الزامات لگائے جا رہے ہیں تو دوسری طرف جمہوری عمل کی بحالی کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کا موقف ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں عوام کی رائے کا احترام کرنا ناگزیر ہے اور کسی بھی قسم کے غیر جمہوری اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔
ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کے تناظر میں اسد عمر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت اور تصادم کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسد عمر کے یہ ریمارکس پی ٹی آئی کی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں جس میں وہ عوامی مقبولیت کو بنیاد بنا کر حکومت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔





اپنی رائے دیں