اسلام آباد میں سینیٹ کا ایک اہم اجلاس پارلیمانی کارروائی کے دوران ارکان کی عدم دلچسپی اور کورم کی صورتحال کے پیش نظر مقررہ وقت سے پہلے ہی ملتوی کرنا پڑ گیا۔ ایوان بالا کا یہ اجلاس چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین کی بجائے پریزائیڈنگ افسر شہادت اعوان کی زیر صدارت شروع ہوا تھا جس میں قانون سازی اور عوامی نوعیت کے امور پر بحث ہونا تھی۔
اجلاس کے آغاز پر ہی معمول کی کارروائی شدید متاثر ہوئی کیونکہ ایوان میں وہ اراکین موجود نہیں تھے جنہوں نے مختلف وزارتوں سے متعلق سوالات جمع کرا رکھے تھے۔ اراکین کی بڑی تعداد کی غیر حاضری کی وجہ سے وقفہ سوالات کے دوران نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایوان میں سوال پوچھنے والے متعلقہ سینیٹرز ہی غائب تھے۔
پریزائیڈنگ افسر شہادت اعوان نے صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اب تک کے تمام سوالات کو آئندہ اجلاس تک مؤخر کرنے کی رولنگ دی۔ اس دوران ایوان میں موجود چند ارکان نے کارروائی کے دوران اپنی موجودگی درج کروائی اور مختلف اہم قومی و علاقائی مسائل پر آواز اٹھانے کی کوشش کی۔
تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر محسن عزیز نے ایوان کی کارروائی کے دوران اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہاں تو سوال کرنے والے اراکین ہی موجود نہیں ہیں۔ ان کے اس برملا اظہار سے ایوان میں موجود دیگر اراکین کو بھی اندازہ ہو گیا کہ ارکان کی حاضری کا تناسب کتنا کم تھا۔
مسلم لیگ ن کی سینیٹر سعدیہ عباسی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت میں اخبارات کی ترسیل بند ہونے کا انتہائی سنجیدہ معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ دارالحکومت اسلام آباد میں آج اخبارات کی تقسیم کا عمل معطل رہا ہے جو کہ پریس کی آزادی کے حوالے سے ایک تشویشناک امر ہے۔
سعدیہ عباسی نے انکشاف کیا کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے نے اچانک کارروائی کرتے ہوئے ان دفاتر پر چھاپے مارے اور انہیں سیل کر دیا جہاں سے اخبارات کی ترسیل کا نظام چلایا جاتا ہے۔ انہوں نے اسے آزادی صحافت پر قدغن قرار دیتے ہوئے ایک سنگین قدم کے طور پر پیش کیا۔
لیگی سینیٹر نے اس معاملے کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس پوری کارروائی کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سلسلے میں وزارت داخلہ سے باقاعدہ جواب طلب کیا جانا چاہیے تاکہ پریس کے دفاتر کو سیل کرنے کی وجوہات سامنے آ سکیں۔
اجلاس کے دوران اقلیتوں کے حقوق اور ان کی نمائندگی کا نکتہ بھی بھرپور انداز میں اٹھایا گیا جس پر ایوان میں موجود ارکان نے گہری تشویش کا اظہار کیا۔ سینیٹر دنیش کمار نے متروکہ وقف املاک بورڈ میں بلوچستان کے کسی بھی غیر سرکاری رکن کو شامل نہ کیے جانے کے خلاف توجہ دلائو نوٹس پیش کیا۔
سینیٹر دنیش کمار نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا بلوچستان کی اقلیتوں کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے اور کیا اس صوبے کی اقلیتوں کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اس ملک میں یتیم ہیں جن کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کے حالیہ نوٹیفکیشن میں کل پندرہ غیر سرکاری ارکان کو شامل کیا گیا ہے لیکن اس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کسی ایک بھی فرد کو نمائندگی نہیں دی گئی۔ اس موقع پر صوبائی حکومت کی جانب سے نام بھجوائے جانے کے باوجود نظر انداز کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کو صرف بیوروکریسی کی غفلت تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ دراصل ایک مخصوص سوچ اور مائنڈ سیٹ کا شاخسانہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے رویوں سے چھوٹے صوبوں اور اقلیتوں میں احساس محرومی مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
ان تمام اہم نکتہ ہائے اعتراض اور مختلف امور پر بحث کے دوران ارکان کی جانب سے ایوان میں سنجیدہ دلچسپی کا فقدان واضح طور پر دکھائی دیتا رہا۔ حکومتی اور اپوزیشن بنچوں پر اراکین کی کم تعداد اور عدم توجو کی وجہ سے ایوان کا ماحول معمول کی قانون سازی کے موافق نہیں رہا۔
پریزائیڈنگ افسر نے ایوان کی کارروائی کو مزید جاری رکھنے کے ناممکن ہونے پر تمام باقی ماندہ ایجنڈا روکنے کا فیصلہ کیا۔ ارکان کی مسلسل غیر حاضری اور دلچسپی نہ ہونے کے اس عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے سینیٹ کا یہ اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے نہیں بلکہ مخصوص تاریخ تک موخر کر دیا گیا۔
آخرکار، ایوان بالا کا یہ سیشن پیر انیس اکتوبر کی شام چار بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا تاکہ آئندہ اجلاس میں ارکان کی پوری تیاری اور بہتر حاضری کے ساتھ معمول کے امور اور سوالات کو دوبارہ ایجنڈے پر لایا جا سکے اور باقی ماندہ کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔




اپنی رائے دیں