مواد پر جائیں
جمعہ، 30 اکتوبر 2026 19 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: دوپہر 1:14
بریکنگ
بوسنیا: اطالوی فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 4 افراد ہلاک، 11 زخمیخواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان تلخی پارلیمانی نوک جھوک ہے: رانا ثنا اللہوزیراعظم کی لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی ماسٹر پلان کے تحت توسیع کی منظوریٹرائی سیریز: انگلینڈ نے سری لنکا کو 55 رنز سے شکست دے دیایران کو امریکی نائب صدر کا خط موصول، تہران کا جواب دینے سے گریزکے ایم سی کے 10 ہزار ملازمین کی ڈگریاں تصدیق کروانے کا حکمبلوچستان کی باہمت خاتون کرکٹر زمر شفیع کینسر کے باوجود میدان میں ڈٹ گئیںمولانا فضل الرحمان کے بیان پر محسن نقوی کا سخت ردعمل، احترام کی گنجائش ختم ہونے کا اعلانپاکستان میں سونے کی قیمت مستحکم، چاندی کے نرخوں میں کمیپاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم: 16 ارب روپے کے انعامات جیتنے کا طریقہ کار واضحپنجاب میں جعلی ہارمونل دوا کی فروخت پر الرٹ جاریلاہور ہائیکورٹ: نیورو سرجری اسسٹنٹ پروفیسرز کی بھرتیاں پی ایم ڈی سی ضوابط کے تابع قرارکار سرکار میں مداخلت کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزالکی مروت: دو سالہ بچہ اغوا کے بعد قتل، بوری بند لاش برآمدکراچی: بنارس موبائل مارکیٹ میں ڈکیتی کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پرکراچی کے علاقے ڈیفنس میں شہریوں کو ہراساں کرنے کی ویڈیوز، پولیس کی تحقیقات جاریکراچی: شاہ فیصل کالونی میں بھائی نے فائرنگ کر کے دو بہنوں کو قتل کر دیاخیبر پختونخوا میں تجاوزات کیخلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز، غیر قانونی تعمیرات مسماردرآمدی گندم کی آمد، آٹے اور گندم کی قیمتوں میں کمی کا امکانبھارت: مائیکروسافٹ ملازم کو نوکری چھوڑنے پر 11 لاکھ کی پیشکش، انٹرنیٹ پر بحث
دنیا بریکنگ نیوز

بوسنیا: اطالوی فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 4 افراد ہلاک، 11 زخمی

یورپی یونین فورس کا CH-47 چینوک ہیلی کاپٹر معمول کی تربیتی پرواز کے دوران حادثے کا شکار ہوا، اطالوی وزیر دفاع نے ہلاکتوں کی تصدیق کر دی۔

بوسنیا: اطالوی فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 4 افراد ہلاک، 11 زخمی

بوسنیا میں یورپی یونین فورس (EUFOR) کا ایک فوجی ہیلی کاپٹر معمول کی تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہو گئے ہیں۔ حادثہ دارالحکومت سرائیوو سے تقریباً 180 کلومیٹر شمال میں واقع علاقے برچکو میں پیش آیا۔

یورپی یونین فورس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر CH-47 چینوک ماڈل کا تھا جو معمول کی مشقوں میں مصروف تھا۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ حادثے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں۔

اطالوی وزارت دفاع نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہیلی کاپٹر میں سوار تمام افراد کا تعلق اٹلی سے تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں دو اطالوی فوجی اور ریڈ کراس کے دو رضاکار شامل ہیں، جبکہ زخمی ہونے والے 11 افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

یوفور حکام کا کہنا ہے کہ تمام زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ حادثے کے مقام سے سامنے آنے والی تصاویر میں ہیلی کاپٹر کو ایک کھلے میدان میں الٹا پڑا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

اٹلی کے وزیر دفاع گیویڈو کروسیٹو نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی اولین ترجیح جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی اور ان کی مدد کرنا ہے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ وہ ذاتی طور پر اور پورے اطالوی محکمہ دفاع کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کرتے ہیں۔ انہوں نے حادثے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹر نے پرواز کے دوران توازن کھو دیا تھا جس کے بعد وہ بے قابو ہو کر زمین پر آ گرا۔ واقعے کی مزید تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

بوسنیا میں تعینات یورپی یونین فورس کا مقصد خطے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اور مقامی انتظامیہ کی معاونت کرنا ہے۔ اس طرح کے تربیتی مشنز کا مقصد فوجیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔

مقامی حکام نے حادثے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے تاکہ تفتیشی ٹیمیں شواہد اکٹھے کر سکیں۔ جائے وقوعہ پر موجود عینی شاہدین کے مطابق ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد وہاں دھواں اٹھتا دیکھا گیا تھا جس کے بعد امدادی ٹیمیں فوری طور پر پہنچی تھیں۔

اس حادثے نے اٹلی سمیت یورپی یونین کے حلقوں میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا پیغام دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ CH-47 چینوک ہیلی کاپٹر اپنی کارکردگی اور بھاری وزن اٹھانے کی صلاحیت کے لیے دنیا بھر کی افواج میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس قسم کے ہیلی کاپٹروں کے حادثات انتہائی غیر معمولی سمجھے جاتے ہیں جن کی تکنیکی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔

حکام نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔ فی الحال ہیلی کاپٹر کے ملبے کو ہٹانے کا کام جاری ہے تاکہ علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے۔

بوسنیا میں تعینات دیگر بین الاقوامی فورسز نے بھی اس واقعے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے جوانوں کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور ان کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں