مواد پر جائیں
پیر، 12 اکتوبر 2026 صبح 6:16 1 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:37
بریکنگ
پاکستان، مصر اور ترکیہ کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمتخیبرپختونخوا میں آئینی راستہ اختیار کرنا ناگزیر تھا، محسن نقویخیبر پختونخوا میں کوئی بڑا آپریشن نہیں ہوگا، کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا: رانا ثناء اللہخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ: ایچ آر سی پی کا اظہار تشویشآبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ، پاسدارانِ انقلاب کا انتباہخیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ، تمام اتحادی جماعتیں آن بورڈ ہیں، طارق فضل چودھریجبوتی کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 15 بچوں سمیت 139 افراد ہلاکحوثی ملیشیا کا سعودی عرب کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہخیبر پختونخوا کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس کا اپنے عہدے سے استعفیٰکراچی میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ، 20 اکتوبر تک پابندیکراچی میں دفعہ 144 کا نفاذ، جلسے جلوسوں اور اجتماعات پر پابندی عائدسوات اور نوشہرہ میں تعلیمی ادارے بند، میٹرک کے امتحانات ملتویصوابی: پی ٹی آئی کے 59 کارکنان گرفتار، سیکیورٹی انتظامات سختایم کیو ایم پاکستان کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی حمایت کا اعلانخیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تعلیمی ادارے کل بند رہیں گےامریکی اداروں کی ویب سائٹس پر اے آئی ایجنٹس کی غیر مجاز رسائی کی کوششپشین: سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، افغانستان سے لایا گیا اسلحہ برآمدکرم میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 12 دہشت گرد ہلاکخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق وضاحت جاریخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ، وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کے اجلاس طلب
صبح 6:1612 اکتوبر
پاکستان

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ غیر جمہوری اقدام ہے، بیرسٹر گوہر

چیئرمین پی ٹی آئی نے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی غلطی قرار دے دیا ہے۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ غیر جمہوری اقدام ہے، بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو غیر جمہوری اور سیاسی غلطی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے اپنے بیان میں کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ کسی بھی صورت میں عوامی مینڈیٹ کا احترام نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اپنے آئینی اور قانونی حقوق کے خلاف ایسے اقدامات کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے معاملے پر پوری قوم متفق ہے، تاہم اس کا مقابلہ طاقت کے بجائے قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمت عملی سے ہی ممکن ہے۔ صوبوں کو کمزور کر کے وفاق کو مضبوط نہیں کیا جا سکتا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق وفاق اور صوبے کے درمیان تصادم پیدا کرنے سے نہ تو امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی ملک میں استحکام آ سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مضبوط صوبے ہی ایک مضبوط وفاق کی اصل بنیاد ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مسائل کا حل غیر معمولی اقدامات یا طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ آئین کی بالادستی اور سیاسی بصیرت میں پنہاں ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بامعنی مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاق کو اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر زمینی حقائق کا ادراک کرنا چاہیے۔ عوام کے جذبات اور احساسات کا احترام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ملک کو مزید سیاسی اور معاشی نقصان سے بچایا جا سکے۔

بیرسٹر گوہر نے تنبیہ کی کہ سیاسی فیصلوں پر نظرثانی کرنا کمزوری نہیں بلکہ قومی مفاد میں دانشمندی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت درست فیصلے نہ کیے گئے تو اس کے نتائج ملکی جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے واضح کیا کہ ان کی جماعت عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ قانونی اور جمہوری راستوں سے اس فیصلے کی مخالفت جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی بھی وقت ہے کہ وفاقی حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے تاکہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور جمہوری عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کی حکمرانی ہی ایک مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے۔ کسی بھی غیر معمولی اقدام سے گریز کرنا ہی ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے تاکہ حالات کو معمول پر لایا جا سکے۔

بیرسٹر گوہر نے اس بات پر زور دیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی ہی ملک کو درپیش چیلنجز سے نکال سکتی ہے۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ وہ ملک کو مزید بحرانوں میں دھکیلنے سے گریز کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنے سیاسی اور جمہوری حقوق کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کارکنوں اور عوام کو یقین دلایا کہ ان کے مینڈیٹ کا ہر صورت میں دفاع کیا جائے گا اور کسی کو اسے پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ملک کو اس وقت استحکام کی ضرورت ہے جو صرف آئینی راستوں پر چل کر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومتی حلقے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں گے تاکہ ملک کو بحران سے نکالا جا سکے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں