وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے لیبیا کے وزیر تیل و گیس سے ایک اہم ملاقات کی ہے جس میں دوطرفہ توانائی تعلقات کے فروغ اور خام تیل کی باقاعدہ درآمد پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان پیٹرولیم کے شعبے میں باہمی تعاون کو نئی رفتار دینے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات کے دوران علی پرویز ملک نے واضح کیا کہ پاکستان نے اپنی مقامی آئل ریفائنریز کو ترغیب دی ہے کہ وہ لیبیا سے خام تیل کی درآمد کے لیے عملی اقدامات کریں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملکی ریفائنریز کو سستے اور قابل بھروسا ذرائع سے خام تیل کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا ہے۔
لیبیا کے وزیر تیل و گیس نے پاکستانی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان کی حکومت پاکستانی کمپنیوں کو خام تیل کی باآسانی فراہمی کے سلسلے میں ہر ممکن مدد اور سہولت فراہم کرے گی تاکہ تجارتی شراکت داری کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
اس اعلیٰ سطحی گفتگو میں دونوں برادر اسلامی ممالک نے آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن اور تکنیکی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے شعبے میں باہمی تجربات اور مہارت کے تبادلے میں بھی گہری دلچسپی کا اظہار کیا، جس سے دونوں ممالک کے توانائی شعبے کو فائدہ پہنچے گا۔
عالمی توانائی اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے دیگر اہم ممالک کے قائدین سے بھی نتیجہ خیز ملاقاتیں کیں جن میں ملکی توانائی کی ضروریات پورا کرنے اور بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے جامع مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
علی پرویز ملک نے قطر کے وزیر توانائی سعد شیریدہ الکعبی سے بھی خصوصی ملاقات کی، جس میں مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کے شعبے میں جاری اور ممکنہ تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا تاکہ پاکستان کی گیس سپلائی چین کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
قطری وزیر توانائی کے ساتھ گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں حالیہ پیش رفت اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کے تناظر میں ایل این جی کے طویل مدتی معاہدات اور رسد کے نظام کو مزید فعال بنانے پر اتفاق کیا۔
اس سفارتی سلسلے میں وفاقی وزیر پیٹرولیم اور ترک وزیر توانائی الپ ارسلان بائراکتار کے درمیان بھی ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں برادر ممالک کے درمیان تیل و گیس کی دریافت اور مشترکہ منصوبوں پر سنجیدہ پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔
ترک وزیر توانائی الپ ارسلان بائراکتار نے اس موقع پر ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ سمندر میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر کی تلاش کا آغاز کرنے کے لیے ترکش پیٹرولیم کا جدید سیسمک جہاز اگلے ماہ پاکستان کے سمندری حدود میں پہنچ جائے گا۔
ترک وزیر کا کہنا تھا کہ یہ جدید سیسمک ریسرچ جہاز پاکستان کے انڈس بیسن میں ارضیاتی ڈیٹا جمع کرنے کا اہم کام انجام دے گا، تاکہ گہرے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے امکانات کو عملی منصوبوں کی شکل دی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق انڈس بیسن میں ترک تحقیقی جہاز کے ذریعے سائنسی ڈیٹا کے حصول سے پاکستان کو اپنے سمندری وسائل سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کی ٹھوس بنیاد میسر آئے گی، جو ملکی معیشت کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
پاکستان اس وقت توانائی کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف عالمی شراکت داروں کے ساتھ روابط کو وسعت دے رہا ہے، جس میں روایتی خلیجی ممالک کے ساتھ ساتھ شمالی افریقا اور برادر ممالک سے خام مال کی درآمد اولین ترجیح ہے۔
حکومتی سطح پر ہونے والی ان مسلسل کوششوں اور بین الاقوامی تعاون سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں خام تیل کی دستیابی میں تنوع آئے گا اور ریفائنری سیکٹر جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر قومی پیداوار میں اضافہ کر سکے گا۔





اپنی رائے دیں