اسلام آباد میں سامنے آنے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق ملک کی سرکاری ملکیتی آئل اینڈ گیس کمپنیوں نے ایک دہائی کے دوران شاندار مالیاتی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نمایاں منافع حاصل کیا ہے۔ گزشتہ 10 سال کے دوران مجموعی طور پر 7 بڑی سرکاری کمپنیوں نے 2700 ارب روپے سے زائد کا منافع کما کر قومی معیشت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ان اداروں کی کارکردگی اور منافع کے اعداد و شمار سے ملک کے توانائی کے شعبے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے، جہاں سرکاری کمپنیاں مسلسل منافع بخش پوزیشن میں رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کی جانب سے کمایا جانے والا یہ بھاری منافع حکومتی خزانے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق اس فہرست میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ یعنی او جی ڈی سی ایل سب سے نمایاں رہی ہے جس نے اکیلے ہی 1250 ارب روپے سے زائد کا منافع حاصل کیا۔ او جی ڈی سی ایل نے اس طویل عرصے کے دوران ملک میں تیل اور گیس کی تلاش اور پیداوار میں نمایاں کردار ادا کیا۔
کمپنی کے مالیاتی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو او جی ڈی سی ایل نے مالی سال 2022-23 میں 224 ارب 60 کروڑ روپے کا سب سے زیادہ سالانہ منافع حاصل کیا۔ یہ کسی بھی ایک سال میں کسی بھی سرکاری توانائی کمپنی کی جانب سے کمایا جانے والا ایک ریکارڈ منافع شمار ہوتا ہے۔
اس کے بعد مالی سال 2023-24 کے دوران او جی ڈی سی ایل کا سالانہ منافع 208 ارب 90 کروڑ روپے ریکارڈ کیا گیا۔ جبکہ اگلے ہی مالی سال یعنی 2024-25 میں اس ادارے کا منافع 169 ارب 90 کروڑ روپے کی سطح پر رہا۔
او جی ڈی سی ایل کے بعد پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ یعنی پی پی ایل نے بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 10 سال میں مجموعی طور پر 620 ارب 30 کروڑ روپے کا منافع کمایا۔ پی پی ایل کی یہ کارکردگی بھی ملکی توانائی کے شعبے کی مضبوطی کی غمازی کرتی ہے۔
پی پی ایل کا سالانہ منافع بھی حالیہ برسوں میں نمایاں رہا اور مالی سال 2023-24 کے دوران یہ منافع 114 ارب 30 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ اس کے اگلے سال یعنی مالی سال 2024-25 میں اس کمپنی کا منافع 92 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔
توانائی کے شعبے میں کام کرنے والی ایک اور اہم سرکاری کمپنی جی ایچ پی ایل نے بھی 10 سال کے دوران 377 ارب روپے سے زائد کا مجموعی منافع کمایا۔ اس ادارے کی کارکردگی بھی سرکاری توانائی کمپنیوں کی مالیاتی بہتری کی عکاس رہی ہے۔
جی ایچ پی ایل کے سالانہ منافع کے حوالے سے سرکاری دستاویزات بتاتی ہیں کہ مالی سال 2023-24 میں اس کا منافع 69 ارب 20 کروڑ روپے رہا۔ اس کے بعد مالی سال 2024-25 کے دوران اس کمپنی نے 48 ارب 50 کروڑ روپے کا منافع حاصل کیا۔
ملکی سطح پر تیل اور اشیا کی ترسیل اور فروخت میں اہم کردار ادا کرنے والی پاکستان اسٹیٹ آئل یعنی پی ایس او نے بھی اس 10 سالہ عرصے میں نمایاں مالیاتی فوائد حاصل کیے۔ پی ایس او نے اس دوران مجموعی طور پر 218 ارب 70 کروڑ روپے کا منافع کمایا۔
گیس کی فراہمی کے شعبے میں سرگرم سوئی ناردرن گیس کمپنی نے بھی اس دہائی کے دوران منافع کمانے والے اداروں میں جگہ بنائی۔ سوئی ناردرن گیس کمپنی کا 10 سالہ مجموعی منافع 97 ارب 83 کروڑ روپے ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح سوئی سدرن گیس کمپنی نے بھی مذکورہ عرصے کے دوران اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے 86 ارب روپے سے زائد کا منافع کمایا۔ یہ دونوں گیس یوٹیلیٹی کمپنیاں ملک کے مختلف حصوں میں صارفین کو گیس فراہم کرنے کی ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔
دوسری جانب پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے 8 سال کے دوران مجموعی طور پر 58 ارب 20 کروڑ روپے کا منافع حاصل کیا۔ ان تمام اداروں کی مالی سال وار تفصیلی رپورٹ سرکاری دستاویزات میں باقاعدہ درج کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ان سرکاری کمپنیوں کا تسلسل کے ساتھ منافع کمانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر توانائی کے ان اداروں کو بہتر انتظامی امور اور پالیسیوں کے تحت چلایا جائے تو یہ ملکی معیشت کے استحکام میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے ان اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا مقصد توانائی کے شعبے میں مزید بہتری لانا اور تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کے عمل کو تیز کرنا ہے۔ ان اداروں کا منافع ملک کی مالیاتی صورتحال کو سہارا دینے میں ہمیشہ سے مددگار رہا ہے۔





اپنی رائے دیں