پاکستان اور رومانیہ کے مابین تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان ڈیری اور زراعت کے شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان رومانیہ بزنس کونسل (پی آر بی سی) کے زیر اہتمام ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی تجارتی وفد نے رومانیہ کا دورہ کیا ہے۔
وفد کی قیادت سندھ میں رومانیہ کے نامزد اعزازی قونصل عاطف فاروقی نے کی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے کاروباری افراد کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینا اور جدید زرعی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ہے۔ اس دورے کے دوران وفد نے دارالحکومت بخارسٹ کے قریب واقع رومانیہ کے سب سے بڑے ڈیری فارم کا خصوصی دورہ کیا ہے۔
اس دورے کے دوران پاکستانی وفد کو فارم کے انتظامی ڈھانچے، جدید زرعی طریقوں اور مویشیوں کی افزائش کے نظام کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انتظامیہ نے بتایا کہ یہ فارم تقریباً 7 ہزار ہیکٹر رقبے پر محیط ہے اور یہ ایک خاندانی کاروبار ہے جو کئی نسلوں سے کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔
فارم کی نمایاں خصوصیات میں ہولسٹین نسل کی تقریباً 7 ہزار گائیں شامل ہیں، جنہیں دنیا بھر میں دودھ کی سب سے زیادہ پیداوار دینے والی نسلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فارم میں گوشت کی پیداوار کے لیے بھی مویشیوں کی افزائش کی جاتی ہے، جو جدید تقاضوں کے مطابق ہے۔
فارم کے انتظامی امور کو چلانے کے لیے جدید کمپیوٹرائزڈ نظام کا استعمال کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے مویشیوں کی خوراک، صحت کی نگہداشت اور دودھ کی پیداوار کے عمل کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی فارم کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
انتظامیہ نے وفد کو آگاہ کیا کہ فارم میں مویشیوں کے لیے درکار اناج اور سائیلج خود کاشت کیا جاتا ہے، جبکہ اضافی زرعی پیداوار کو مقامی منڈیوں میں فروخت کیا جاتا ہے۔ اس خود انحصاری کے ماڈل نے فارم کی پیداواری لاگت کو کم رکھنے میں مدد دی ہے۔
فارم سے حاصل ہونے والا خام دودھ روزانہ کی بنیاد پر مخصوص ٹینکرز کے ذریعے براسوو شہر میں قائم ایک بڑی ڈیری فیکٹری کو فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فارم میں ایک بڑے بائیو گیس پلانٹ کی تنصیب کا منصوبہ بھی زیر تکمیل ہے، جس سے توانائی کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔
پاکستانی وفد کے دورے کا ایک اہم مقصد دونوں ممالک کے درمیان کاروباری شراکت داری کے مواقع تلاش کرنا تھا۔ اس موقع پر رومانیہ کے ڈیری اور زرعی شعبے میں پاکستانی سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور وہاں پیشہ ورانہ تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
رومانیہ کے زرعی ماہرین اور پاکستانی وفد کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور باہمی تعاون سے دونوں ممالک کے زرعی شعبے کو ترقی دی جا سکتی ہے۔
پاکستان رومانیہ بزنس کونسل کے حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دورے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کو قریب لانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ وفد نے رومانیہ کے زرعی ماڈل کو سراہا اور اسے پاکستان میں ڈیری فارمنگ کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مفید قرار دیا۔
دورے کے اختتام پر دونوں جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مستقبل میں بھی ایسے تجارتی وفود کا تبادلہ جاری رہے گا تاکہ زراعت، لائیو سٹاک اور ڈیری کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کیے جا سکیں۔
پاکستان اور رومانیہ کے درمیان یہ تعاون تجارتی حجم میں اضافے کا باعث بنے گا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی و معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔





اپنی رائے دیں