مواد پر جائیں
پیر، 12 اکتوبر 2026 رات 4:07 1 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:37
بریکنگ
پاکستان، مصر اور ترکیہ کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمتخیبرپختونخوا میں آئینی راستہ اختیار کرنا ناگزیر تھا، محسن نقویخیبر پختونخوا میں کوئی بڑا آپریشن نہیں ہوگا، کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا: رانا ثناء اللہخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ: ایچ آر سی پی کا اظہار تشویشآبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ، پاسدارانِ انقلاب کا انتباہخیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ، تمام اتحادی جماعتیں آن بورڈ ہیں، طارق فضل چودھریجبوتی کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 15 بچوں سمیت 139 افراد ہلاکحوثی ملیشیا کا سعودی عرب کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہخیبر پختونخوا کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس کا اپنے عہدے سے استعفیٰکراچی میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ، 20 اکتوبر تک پابندیکراچی میں دفعہ 144 کا نفاذ، جلسے جلوسوں اور اجتماعات پر پابندی عائدسوات اور نوشہرہ میں تعلیمی ادارے بند، میٹرک کے امتحانات ملتویصوابی: پی ٹی آئی کے 59 کارکنان گرفتار، سیکیورٹی انتظامات سختایم کیو ایم پاکستان کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی حمایت کا اعلانخیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تعلیمی ادارے کل بند رہیں گےامریکی اداروں کی ویب سائٹس پر اے آئی ایجنٹس کی غیر مجاز رسائی کی کوششپشین: سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، افغانستان سے لایا گیا اسلحہ برآمدکرم میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 12 دہشت گرد ہلاکخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق وضاحت جاریخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ، وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کے اجلاس طلب
رات 4:0712 اکتوبر
پاکستان بریکنگ نیوز

خیبر پختونخوا میں کوئی بڑا آپریشن نہیں ہوگا، کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا: رانا ثناء اللہ

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ صوبے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رہیں گے اور گورنر راج غیر معینہ مدت تک لگایا جا سکتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں کوئی بڑا آپریشن نہیں ہوگا، کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا: رانا ثناء اللہ

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کسی قسم کا بڑا فوجی آپریشن نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی شہری کو بے گھر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے صرف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ غیر معینہ مدت تک برقرار رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے انتظامی سیٹ اپ کے تحت صوبائی حکومت اور سول انتظامیہ کی کمی کو پورا کیا جائے گا۔

رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ صوبے کے 12 میں سے 5 اضلاع ایسے ہیں جہاں پولیس تھانے اور سی ٹی ڈی کا وجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی موقف کی تائید کرنے میں صوبائی حکومت ناکام رہی ہے، جس کے باعث ایمرجنسی کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے کچھ لوگ ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر بھتہ مافیا، سمگلنگ اور کرپشن میں ملوث ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ان کے پاس اس حوالے سے ٹھوس ثبوت موجود ہیں اور صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے کچھ اضلاع میں دن کے وقت حکومت جبکہ رات کے اوقات میں دہشت گردوں کا کنٹرول ہوتا ہے، اور یہ بات مقامی لوگ خود تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے وفاق کی جانب سے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ہو رہا ہے اور اس معاملے پر متعدد بار بات چیت کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے دوست ممالک کے ذریعے بھی معاملہ اٹھایا لیکن صورتحال میں بہتری نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو سیاست کرنے اور جمہوری طریقے سے احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم اسلام آباد پر چڑھائی کرنا احتجاج کا درست طریقہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی ہدایات پر گورنر خیبر پختونخوا پوری طرح عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔

رانا ثناء اللہ نے پنجاب کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سی ٹی ڈی نے بہترین کارکردگی دکھائی ہے جس کی وجہ سے دہشت گردی پر قابو پایا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ خیبر پختونخوا میں بھی پولیس اور سول انتظامیہ کو فعال بنا کر امن قائم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف اپنا کردار ادا کرنے سے گریز کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں منشیات فروشی اور بھتہ خوری جیسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی وفاق کی ترجیح ہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت کا مقصد عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑا جائے گا تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی چاہیے اور قومی سلامتی کے معاملات پر سیاست سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہونا ہوگا۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ریاست کی رٹ ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں