حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تحت تازہ ترین واقعہ میں دمام کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ کیا گیا ہے۔ سعودی سول ایوی ایشن کے ترجمان نے اس حملے کی تصدیق کی ہے۔
ترجمان کے مطابق حملے کے بعد ایئرپورٹ پر ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایئرپورٹ کی سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس سے قبل حوثی ملیشیا نے سعودی دارالحکومت ریاض میں واقع شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی اپنے حملے کا نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ریاض کے شاہ خالد ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کے حوالے سے سعودی سول ڈیفنس نے بتایا کہ اس واقعے میں 12 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں۔
سعودی سول ڈیفنس کے اعداد و شمار کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 4 سعودی شہری اور 2 بنگلہ دیشی شہری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان کا ایک ایک شہری بھی اس حملے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
سعودی حکام کی جانب سے ایئرپورٹ پر ہونے والے نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ بحالی کے کاموں کو جلد مکمل کیا جا سکے۔ سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں کو روکا جا سکے۔
حوثی ملیشیا کی جانب سے شہری تنصیبات اور بین الاقوامی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانا خطے میں کشیدگی کا باعث بن رہا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے بھی ان حملوں پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کیونکہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے اپنے دفاع کے لیے کیے جانے والے اقدامات جاری ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ ایئرپورٹ پر معمول کی سرگرمیوں کی بحالی پر توجہ دی جا رہی ہے۔
دمام اور ریاض کے ایئرپورٹس پر حملوں کے بعد سعودی سول ایوی ایشن نے فضائی حدود اور سیکیورٹی پروٹوکولز کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ فضائی آپریشنز میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
حملے کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں اور زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ سعودی وزارت صحت کی جانب سے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
سعودی عرب میں موجود غیر ملکی سفارت خانوں نے بھی اپنے شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ حکام جاں بحق افراد کی میتوں کو ان کے آبائی ممالک بھجوانے کے لیے ضروری کاغذی کارروائی مکمل کر رہے ہیں۔
حوثی ملیشیا کی جانب سے اس طرح کے حملے ماضی میں بھی کیے جاتے رہے ہیں جنہیں سعودی اتحاد کی جانب سے ناکام بنانے کے دعوے کیے گئے ہیں۔ تاہم حالیہ حملوں نے سیکیورٹی کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سعودی عرب کی حکومت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثی ملیشیا کی جانب سے شہری آبادی اور تنصیبات پر حملوں کا نوٹس لے۔ سعودی عرب اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔





اپنی رائے دیں