خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں دہشت گردی کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر شمشاد اختر کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ واقعہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال پر ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے جہاں سرکاری افسران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان نے اس اندمناک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نامعلوم حملہ آوروں نے منصوبہ بندی کے تحت شمشاد اختر کو ٹارگٹ کر کے نشانہ بنایا۔ ترجمان کے مطابق یہ حملہ انتہائی بزدلانہ کارروائی ہے جس نے پورے ادارے کو سوگوار کر دیا ہے۔
ترجمان الیکشن کمیشن نے مزید بتایا کہ شمشاد اختر کی کسی کے ساتھ بھی کوئی ذاتی دشمنی یا تنازع موجود نہیں تھا۔ اس بات سے یہ امر مزید واضح ہوتا ہے کہ انہیں محض ایک سرکاری ذمے دار شخصیت اور ادارے کی نمائندگی کرنے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
ابتدائی اطلاعات اور شواہد کی روشنی میں سیکورٹی اداروں اور متعلقہ حکام نے اس واقعے کو خالصتاً ٹارگٹ کلنگ کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ اس طرح کے واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ملک دشمن عناصر سرکاری ملازمین اور اہم شخصیات کو خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس حکام نے شواہد اکٹھے کرنے کا آغاز کر دیا ہے تاکہ حملہ آوروں کا سراغ لگایا جا سکے۔
چیف الیکشن کمشنر نے ٹانک میں پیش آنے والے اس المناک سانحے پر انتہائی گہرے دکھ، صدمے اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیے خصوصی دعا کی جبکہ لواحقین کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔
چیف الیکشن کمشنر نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ اس مشکل اور کٹھن گھڑی میں الیکشن کمیشن کا ہر فرد سوگوار خاندان کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ادارے کی جانب سے غمزدہ خاندان کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے معزز ارکان نے بھی اس بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس نوعیت کے حیلے بہانے قومی خدمت کے جذبے کو کمزور نہیں کر سکتے۔ ارکان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے سیکرٹری اور دیگر تمام انتظامی عملے نے بھی شمشاد اختر کے قتل پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ ایک فرض شناس اور محنتی افسر کا یوں اچانک بچھڑ جانا پورے محکمے کے لیے ایک بہت بڑا ناقابل تلافی نقصان ہے۔
ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق ادارے کے اندر اور باہر ہر سطح پر اس واقعے پر گہرے غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ساتھی افسران اور ملازمین اپنے پیارے اور مخلص ساتھی کی اس بے وقت شہادت پر صدمے کی حالت میں ہیں۔
واقعے کے بعد ٹانک اور گردونواح کے علاقوں میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ ایسے عناصر کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں۔
عوامی اور سماجی حلقوں کی جانب سے بھی اس اندمناک واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری افسران کا تحفظ ریاست کی اولین ذمے داری ہے۔
حکومت اور سیکورٹی حکام کی جانب سے اس بزدلانہ کارروائی میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ تحقیقاتی ٹیمیں ہر پہلو سے اس اندمناک واقعے کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کر رہی ہیں۔





اپنی رائے دیں