مواد پر جائیں
منگل، 13 اکتوبر 2026 صبح 5:59 2 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 5:57
بریکنگ
حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل، نئی قیمتوں کا اطلاق فوری ہوگاروسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف 4 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئےراولپنڈی: 12 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاکخیبرپختونخوا: تعلیمی ادارے اور بی آر ٹی سروس بحال، حالات معمول پرخیبرپختونخوا میں بے امنی کا پروپیگنڈا، وزارت اطلاعات نے حقائق واضح کر دیےخیبرپختونخوا میں بدامنی کا تاثر: سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد پھیلانے کا انکشافافغان سرزمین کا استعمال روکنا طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے: وزارت اطلاعاتصدر مملکت آصف علی زرداری نے سینٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیاکوئٹہ: میر ہوٹل کے قریب پولیس موبائل پر حملہ، ایک اہلکار شہید، 4 زخمیحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول سستا اور ڈیزل مہنگالاہور: ون ویلنگ اور ہلڑبازی کرنے والے 7 افراد گرفتار، مقدمات درجاسرائیل نے انڈونیشی عملے کی موجودگی پر ایتھوپین کارگو طیارے کو واپس بھیج دیاسندھ پبلک سروس کمیشن: سی سی ای 2023 میں مبینہ بے ضابطگیوں پر نیب متحرکترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر کام تیزاسلام آباد: بیرون ملک تعلیم کا جھانسہ، گولڈ میڈلسٹ طالبہ سے 93 لاکھ روپے کا فراڈملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور ژالہ باری کی پیش گوئیوفاقی حکومت کی جانب سے اہم سرکاری افسران کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاریسعودی عرب ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، سلمان الدوسریترکیہ سعودی عرب پر غیر انسانی حملوں کے خلاف اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے: طیب اردگانوفاقی آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں کیلئے واجب التعمیل ہیں، جسٹس سید حسن اظہر رضوی
صبح 5:5913 اکتوبر
کاروبار

پٹرول کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، لاہور کے رکشہ ڈرائیورز شدید مشکلات کا شکار

مہنگائی اور ایندھن کے نرخوں میں بار بار تبدیلی کے باعث رکشہ چلانے والے افراد دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے بھی پریشان ہیں۔

پٹرول کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، لاہور کے رکشہ ڈرائیورز شدید مشکلات کا شکار

شہرِ لاہور میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل ردوبدل نے رکشہ ڈرائیوروں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ایندھن کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث ان محنت کشوں کے لیے روزانہ کے اخراجات کا توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

رکشہ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ دن بھر کی سخت محنت کے بعد جو آمدنی حاصل ہوتی ہے، اس کا بڑا حصہ پٹرول کے اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں گھر کے لیے ضروری راشن اور دیگر اخراجات پورے کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔

صرف پٹرول ہی نہیں بلکہ رکشے کی دیکھ بھال کے اخراجات بھی ان کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ انجن آئل کی تبدیلی، ٹائروں کی مرمت اور گاڑی کے دیگر پرزہ جات کی قیمتوں میں اضافے نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ڈرائیوروں کو ایک طرف ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا ہے تو دوسری طرف کرایوں کے تعین پر بھی انہیں کشمکش کا سامنا ہے۔ اگر وہ کرایوں میں اضافہ کرتے ہیں تو سواریاں ناراض ہو کر رکشے میں بیٹھنے سے گریز کرتی ہیں۔

دوسری جانب اگر وہ پرانے کرایوں پر ہی کام جاری رکھیں تو ان کی اپنی جیب سے اخراجات پورے نہیں ہوتے۔ اس دو طرفہ دباؤ نے رکشہ ڈرائیوروں کو ایک ایسی غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے جہاں سے نکلنے کا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔

متاثرہ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے پہلے ہی عام آدمی کے بجٹ کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے، جس کا براہِ راست اثر ان کی روزانہ کی کمائی پر پڑتا ہے۔ اب ان کے لیے اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات اور گھر کا کرایہ ادا کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

پٹرول کی قیمتوں میں بار بار ہونے والی تبدیلیوں نے ڈرائیوروں کے لیے اپنے ماہانہ بجٹ کا تخمینہ لگانا بھی ناممکن بنا دیا ہے۔ انہیں ہر صبح اٹھ کر یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ آیا آج کا دن ان کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی ہوگا۔

شہر کے مختلف علاقوں میں رکشہ چلانے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام لایا جائے۔ ایندھن سستا ہونے سے ہی ان کی آمدنی میں بہتری آ سکتی ہے اور وہ باعزت طریقے سے اپنا گھر چلا سکتے ہیں۔

کئی ڈرائیوروں نے بتایا کہ وہ قرض لے کر اپنے رکشوں کی مرمت کرواتے ہیں، لیکن پٹرول کے اخراجات نکالنے کے بعد اتنی بچت نہیں ہوتی کہ وہ قرض کی اقساط بھی ادا کر سکیں۔ یہ صورتحال انہیں ذہنی دباؤ اور مایوسی کی طرف لے جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کام کرنے والے چھوٹے ڈرائیور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی مشکلات کا براہِ راست اثر عام شہریوں پر بھی پڑتا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر سفر کے لیے ان رکشوں پر انحصار کرتے ہیں۔

موجودہ معاشی حالات میں رکشہ ڈرائیوروں کی یہ فریاد حکومتی سطح پر توجہ کی متقاضی ہے۔ اگر ایندھن کی قیمتوں میں استحکام نہیں لایا گیا تو یہ طبقہ مزید معاشی بحران کا شکار ہو سکتا ہے، جس سے ان کے خاندانوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگ جائے گا۔

رکشہ ڈرائیوروں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں میں کمی کرے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپنی محنت کا صلہ چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کی کفالت کر سکیں۔

شہر کے مختلف سٹینڈز پر موجود ڈرائیور اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا وہ اس پیشے کو جاری رکھیں یا کوئی اور متبادل تلاش کریں۔ تاہم، متبادل روزگار کی کمی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے باعث وہ اسی مشکل پیشے سے وابستہ رہنے پر مجبور ہیں۔

کاروبار کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں