فٹبال کی دنیا کے درخشاں ستارے اور ارجنٹینا کے لیجنڈری کھلاڑی لیونل میسی نے ایک انٹرویو کے دوران اپنی زندگی کے ایک ایسے پہلو پر روشنی ڈالی ہے جس کا علم شاید کم لوگوں کو تھا۔
دنیا بھر میں اپنے کھیل کے جوہر دکھانے والے اس نامور کھلاڑی نے اعتراف کیا کہ انہیں اپنے اسکول کے زمانے کی ایک بڑی غفلت پر آج بھی شدید افسوس ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بچپن میں جب ان کے پاس وقت موجود تھا اور وہ باآسانی کوئی نئی زبان سیکھ سکتے تھے، تب انہوں نے اس سنہری موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔
لیونل میسی نے کھل کر اس بات کا اعتراف کیا کہ انگریزی زبان پر عبور نہ ہونا ان کی زندگی کا ایک ایسا پچھتاوا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہرا ہوتا جا रहा ہے۔
فٹبال کے میدان میں انمٹ نقوش چھوڑنے والے 39 سالہ اس کھلاڑی نے بتایا کہ زندگی کے سفر کے دوران انہیں کئی ایسی غیر معمولی شخصیات سے ملنے کا شرف حاصل ہوا۔
ان عظیم شخصیات اور نمایاں رہنماؤں سے ملاقات کے دوران زبان کی رکاوٹ ایک دیوار بن گئی جس کی وجہ سے وہ ان کے ساتھ کھل کر براہِ راست بات چیت نہیں کر سکے۔
چونکہ وہ بنیادی طور پر ہسپانوی زبان بولتے ہیں، اس لیے انہیں اکثر و بیشتر بین الاقوامی سطح پر تقریبات اور ملاقاتوں کے دوران مترجم کی مدد لینا پڑتی ہے۔
لیونل میسی کا ماننا ہے کہ اگر وہ زمانہ طالب علم میں تھوڑی سی توجہ دے کر انگریزی زبان سیکھ لیتے تو آج انہیں دنیا بھر میں گفتگو کرنے میں اس قدر مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
اسٹار فٹبالر نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ انسان جب وقت گزرنے کے بعد پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اسے اپنی ماضی کی چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں کا احساس شدت سے ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ اب اپنی ماضی کی غلطیوں سے پوری طرح سبق سیکھ چکے ہیں اور اپنے بچوں کو اسکول کے دور سے ہی مستقبل کی تیاری کی تلقین کرتے ہیں۔
لیونل میسی نے اپنے بچوں کو ہمیشہ اس بات کی سخت ہدایت دی ہے کہ وہ تعلیم کے حصول کے دوران زبانیں سیکھنے کے اس قیمتی موقع کو ہرگز ہاتھ سے جانے نہ دیں۔
ان کا اپنے بچوں سے کہنا ہے کہ حالات خواہ کچھ بھی ہوں، انہیں اپنے اسکول کے زمانے میں انگریزی سمیت دوسری زبانوں پر عبور حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔
لیونل میسی نے مزید کہا کہ اگرچہ انہیں اپنی عملی زندگی میں کبھی کسی قسم کی مادی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور قسمت نے ان پر ہمیشہ مہربانیاں کی ہیں۔
تاہم اس کے باوجود ذاتی صلاحیتوں کو نکھارنے اور تعلیمی میدان میں مزید بہتری لانے کے جو مواقع انسان کے پاس بچپن میں ہوتے ہیں، ان کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی اپنے مداحوں اور نئی نسل کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ وہ پڑھائی کے دوران اسکول کے نظام سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ مستقبل میں پچھتانا نہ پڑے۔





اپنی رائے دیں