لاہور چڑیا گھر انتظامیہ کی جانب سے شہریوں اور اداروں کے لیے ایک بہترین اقدام کے طور پر جنگلی جانوروں اور پرندوں کی اڈاپشن کا سلسلہ ایک بار پھر سے بحال کر دیا گیا ہے، جس کے تحت اب عام شہری اور مختلف ادارے اپنی پسند کے جانوروں کو گود لے سکیں گے۔
اس پروگرام کا بنیادی مقصد وائلڈ لائف کی افزائش اور ان کی بہتر دیکھ بھال کے معاملات میں عوام کی شرکت کو یقینی بنانا ہے، تاکہ چڑیا گھر کے مکینوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں اور ان کے اخراجات میں معاونت حاصل ہو سکے۔
حالیہ بحالی کے اس مرحلے کے دوران پہلے ہی ایک نجی تعلیمی ادارے کی جانب سے پیش قدمی کرتے ہوئے چڑیا گھر کے نر دریائی گھوڑے کو باضابطہ طور پر اڈاپٹ کر لیا گیا ہے، جو اس پروگرام کی کامیابی کا ایک اچھا آغاز مانا جا رہا ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے مختلف جنگلی جانوروں کے لیے سالانہ اڈاپشن فیس کے باضابطہ ریٹس مقرر کر دیے گئے ہیں تاکہ اس عمل کو شفاف اور منظم بنایا جا سکے اور دلچسپی رکھنے والے ادارے یا افراد باآسانی اس میں حصہ لے سکیں۔
مقررہ کردہ فیسوں کے مطابق شیر اور ٹائیگر جیسی بڑی بلیوں یعنی بگ کیٹس کی سالانہ اڈاپشن فیس 10 لاکھ روپے رکھی گئی ہے، جو کہ چڑیا گھر میں ان جانوروں کے خوراک اور دیکھ بھال کے بلند اخراجات کے تناسب سے ہے۔
اسی طرح دریا کے اس شاہکار یعنی دریائی گھوڑے کی سالانہ اڈاپشن فیس 6 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، جسے حال ہی میں ایک نجی اسکول کی جانب سے گود لیا گیا ہے اور یہ اس زمرے میں ایک نمایاں پیش رفت ہے۔
چڑیا گھر کے بلند و بالا اور دلکش زرافے کی سالانہ اڈاپشن فیس 3 لاکھ روپے طے کی گئی ہے، جو کہ بچوں اور بڑوں دونوں میں یکساں طور پر مقبول ہے اور اس کی دیکھ بھال پر خاصی توجہ دی جاتی ہے۔
مختلف اقسام کے ہرنوں کے لیے سالانہ اڈاپشن فیس ایک لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ دیگر اینٹی لوپ نسل کے جانوروں کی سالانہ فیس ڈیڑھ لاکھ روپے رکھی گئی ہے تاکہ عام شہری بھی اس کار خیر میں حصہ لے سکیں۔
لاہور چڑیا گھر کے اس تاریخی پروگرام کی ایک روایت یہ بھی رہی ہے کہ ماضی میں شوبز کی کئی معروف شخصیات اور نامور اداکاروں نے بھی بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیا اور مختلف جانوروں کو اپنے زیرِ کفالت رکھا۔
معروف اور لیجنڈری اداکارہ ریما، بابرہ شریف اور میرا جیسی مقبول فنکارائیں ماضی میں لاہور چڑیا گھر میں جانور اڈاپٹ کرنے والی شخصیات میں شامل رہی ہیں جنہوں نے فلاحی اور ماحولیاتی کاموں میں بھرپور دلچسپی ظاہر کی۔
صرف شوبز شخصیات ہی نہیں بلکہ تعلیمی میدان کے بڑے ادارے بھی اس روایت کا حصہ رہے ہیں، جن میں پنجاب یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور یعنی جی سی یو سمیت متعدد تعلیمی ادارے جانور اڈاپٹ کرتے چلے آ رہے ہیں۔
تعلیمی اداروں کی اس شمولیت سے طلبہ میں جنگلی حیات کے تحفظ، ماحول دوستی اور جانوروں کے حقوق کے حوالے سے شعور بیدار ہوتا ہے، جو کہ نوجوان نسل کے لیے ایک مثبت تعلیمی اور تفریحی سرگرمی بھی ہے۔
چڑیا گھر انتظامیہ نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ اس پروگرام کے دوبارہ فعال ہونے سے نہ صرف مالی وسائل میں بہتری آئے گی بلکہ شہریوں میں جنگلی حیات کے تحفظ کا احساس بھی مزید پختہ ہو گا اور لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔
جو شہری یا ادارے اس پروگرام کے تحت جانور یا پرندہ اڈاپٹ کرنے کے خواہشمند ہیں، وہ چڑیا گھر کی انتظامیہ سے رابطہ کر کے مقررہ ضابطہ کار کے تحت اس عمل کا حصہ بن سکتے ہیں اور اپنے پسندیدہ جانور کی سالانہ کفالت کر سکتے ہیں۔





اپنی رائے دیں