مواد پر جائیں
منگل، 13 اکتوبر 2026 رات 4:49 2 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 4:39
بریکنگ
راولپنڈی: 12 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاکخیبرپختونخوا: تعلیمی ادارے اور بی آر ٹی سروس بحال، حالات معمول پرخیبرپختونخوا میں بے امنی کا پروپیگنڈا، وزارت اطلاعات نے حقائق واضح کر دیےخیبرپختونخوا میں بدامنی کا تاثر: سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد پھیلانے کا انکشافافغان سرزمین کا استعمال روکنا طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے: وزارت اطلاعاتصدر مملکت آصف علی زرداری نے سینٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیاکوئٹہ: میر ہوٹل کے قریب پولیس موبائل پر حملہ، ایک اہلکار شہید، 4 زخمیاسلام آباد: بیرون ملک تعلیم کا جھانسہ، گولڈ میڈلسٹ طالبہ سے 93 لاکھ روپے کا فراڈملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور ژالہ باری کی پیش گوئیوفاقی حکومت کی جانب سے اہم سرکاری افسران کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاریسعودی عرب ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، سلمان الدوسریترکیہ سعودی عرب پر غیر انسانی حملوں کے خلاف اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے: طیب اردگانوفاقی آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں کیلئے واجب التعمیل ہیں، جسٹس سید حسن اظہر رضویوزیراعظم شہباز شریف کی امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی خواہشکراچی: کے ڈی اے کے 3 ملازمین کو پلاٹ کی غیر قانونی تبدیلی پر شوکاز نوٹس جاریصدر مملکت نے چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کے بیرون ملک دوروں کی منظوری دے دیکراچی: شہید ملت روڈ پر آن لائن رائیڈر سے موٹر سائیکل اور موبائل فون چھین لیا گیاجدید چینی مائیکرو ڈرامے: سماجی تبدیلی اور بدلتی ہوئی لسانیات کا عکاسخوشحالی کی خواہش اور ہجرت سے ہجر تک کا سفربھارتی فلم ‘دوسرا’ کے ٹریلر پر انیل کپور اور روہت شرما کا ردعمل
رات 4:4913 اکتوبر
دنیا

روس سے ڈیزل خریدنے کے ٹرمپ کے منصوبے پر امریکی سینیٹرز کا احتجاج

امریکی قانون سازوں نے ماسکو سے ایندھن کی خریداری کا فیصلہ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔

روس سے ڈیزل خریدنے کے ٹرمپ کے منصوبے پر امریکی سینیٹرز کا احتجاج

امریکا میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 6 سینیٹرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے روس سے ڈیزل خریدنے کا منصوبہ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ یوکرین کے خلاف روسی جنگ جاری رہنے کے دوران ماسکو سے ایندھن کی خریداری روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو مالی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹرز نے اتوار کو جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ انتظامیہ نے اس متنازع منصوبے کے بارے میں کانگریس سے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی۔ سینیٹرز کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے جواز سے متعلق بھی مطلوبہ وضاحت پیش نہیں کی گئی جبکہ روس سے توانائی کی درآمدات پر پابندی سے متعلق امریکی قانون بھی اس معاملے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو سوشل میڈیا پر اپنے ایک اعلان میں بتایا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران ڈیزل کی فراہمی کا ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق روس فوری طور پر 3 لاکھ ٹن سے زیادہ ڈیزل امریکی اور عالمی منڈی کو فراہم کرے گا جبکہ نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔

ٹرمپ کے اعلان کے مطابق اس کے بعد اگلے مرحلے میں مزید ڈیزل کی فراہمی عمل میں آئے گی اور بعد کے مرحلے میں مزید 30 لاکھ ٹن ڈیزل بھی مختصر مدت میں فراہم کیا جائے گا۔ ان اعداد و شمار اور منصوبے کی تفصیلات کا حوالہ براہ راست امریکی صدر کے بیان سے دیا گیا ہے جس پر دارالحکومت میں سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

مشترکہ بیان پر دستخط کرنے والے چار ریپبلکن سینیٹرز میں سوزن کولنز، لیزا مرکاؤسکی، تھوم ٹلس اور جان کرٹس شامل ہیں جبکہ دو ڈیموکریٹ سینیٹرز جین شاہین اور رچرڈ بلومینتھل نے بھی اس احتجاج میں بھرپور شرکت کی۔ ریپبلکن سینیٹر تھوم ٹلس نے ایک ٹی وی پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر انتظامیہ ڈیزل خریداری کا یہ منصوبہ آگے بڑھاتی ہے تو اس پر یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ آیا صدر قانون کی مکمل پابندی کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ روس یوکرین میں جارحیت کرنے والا ملک ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ماسکو کو تمام زیر قبضہ علاقوں سے اپنی فوجیں باہر نکالنی چاہئیں۔ یہ سفارتی اور سیاسی تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی کانگریس نے حال ہی میں روسی تیل اور قدرتی گیس کے بڑے درآمد کنندگان پر بھاری محصولات عائد کرنے سے متعلق سخت قانون سازی کی تھی۔

امریکی کانگریس کے اس اقدام کا بنیادی مقصد روس کو توانائی کی فروخت سے حاصل ہونے والی اس آمدنی کو محدود کرنا بتایا گیا تھا جسے ماسکو یوکرین کے خلاف جاری جنگ کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ دوسری جانب ریپبلکن سینیٹر جان باراسو نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ ملک میں توانائی کی بلند قیمتیں کم کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہیں بعض اوقات نہایت مشکل فیصلے بھی کرنا پڑ رہے ہیں۔

تاہم سینیٹر جان باراسو نے بھی روس سے متعلق عائد پابندیوں کے قانون پر من و عن عمل درآمد کی بھرپور حمایت کی اور اس بات پر زور دیا کہ یہ پابندیاں روسی صدر پیوٹن پر سیاسی و معاشی دباؤ ڈالنے کا ایک بہترین اور مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں کے دوران امریکا میں ڈیزل کی بلند قیمتوں کا ذمہ دار یوکرین کو قرار دیا ہے جبکہ رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکا کی قیادت میں جاری کشیدگی نے بھی عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

واشنگتن کے سیاسی ایوانوں میں اس پیش رفت کے بعد بحث کا سلسلہ تیز ہو چکا ہے اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ اس معاہدے کے قانونی و اخلاقی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ قانون سازوں کا یہ ماننا ہے کہ کسی بھی قسم کی اقتصادی نرمی ماسکو کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہو سکتی ہے جو کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے قائم امریکی اور مغربی اہداف کے بالکل برعکس ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے پیش کردہ اس ڈیزل فراہمی کے پلان میں مرحلہ وار ترسیل کا ذکر کیا گیا ہے جس کے تحت عالمی منڈی میں ایندھن کی دستیابی کو بہتر بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی پابندیوں کی افادیت کو کمزور کرتے ہیں اور اتحادی ممالک کے درمیان پالیسیوں میں تضاد کو جنم دیتے ہیں۔

ریپبلکن اور ڈیموکریٹک سینیٹرز کا یہ مشترکہ مؤقف اس بات کا غماز ہے کہ کانگریس میں روس کے ساتھ توانائی کے معاملات پر سخت گیر پالیسی اب بھی مضبوط حمایت رکھتی ہے۔ ارکان کا اصرار ہے کہ خارجہ پالیسی کے ایسے اہم فیصلے ہمیشہ قانون ساز اداروں کی پیشگی منظوری اور مشاورت کے ساتھ ہی طے پانے چاہئیں۔

عالمی منڈی میں تیل اور ڈیزل کی قیمتوں میں اتار چڑھاو نے دنیا بھر کی معیشتوں کو دباؤ میں رکھا ہوا ہے اور امریکی انتظامیہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مختلف متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس پس منظر میں صدر ٹرمپ کا یہ قدم ملکی سطح پر تو ایک معاشی اقدام ہو سکتا ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

روس اور یوکرین کے درمیان جاری طویل جنگ کے تناظر میں توانائی کے ذرائع کو بطور ہتھیار استعمال کیے جانے کے الزامات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔ مغربی دارالحکومتوں میں اس بات پر ہمیشہ زور دیا جاتا رہا ہے کہ ماسکو پر اقتصادی دباؤ کو کسی بھی صورت کم نہیں کیا جانا چاہیے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے مناسب ماحول بن سکے۔

امریکی سینیٹرز کی جانب سے جاری کردہ اس تازہ بیان کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس اس تنقید کا کیا جواب دیتا ہے اور آیا اس ڈیزل معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انتظامیہ کوئی لچک دکھاتی ہے یا اپنے موقف پر قائم رہتی ہے۔ یہ صورتحال آنے والے دنوں میں واشنگتن کی داخلی سیاست میں ایک اہم موضوع بنی رہے گی۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں