امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت پر عملدرآمد کی ناکام کوشش سے زندہ بچ جانے والی 50 سالہ قیدی کرسٹا پائیک نے واقعے کے بعد اپنا پہلا عوامی بیان جاری کیا ہے۔ کرسٹا پائیک نے اپنے وکلاء کے ذریعے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ستمبر میں پیش آنے والے واقعے کے بعد سے مسلسل شدید جسمانی اور ذہنی تکلیف میں مبتلا ہیں۔
کرسٹا پائیک کا کہنا ہے کہ اس رات کے بعد سے ایسا کوئی لمحہ نہیں گزرا جب انہیں درد کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بازو، ہاتھ اور گلا شدید تکلیف میں ہیں اور انہیں بولنے میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو انتظامی نااہلی قرار دیتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
خیال رہے کہ 30 ستمبر کو ٹینیسی کی جیل میں کرسٹا پائیک کو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم یہ عمل ناکام رہا۔ حکام کے مطابق پینٹوباربیٹل نامی دوا ان کے خون میں شامل ہونے کے بجائے بازوؤں میں جمع ہوگئی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئیں۔
اس ناکام کوشش کے بعد کرسٹا پائیک کو کئی دن ہسپتال میں گزارنا پڑے جہاں وہ بے ہوشی کی حالت میں رہی تھیں۔ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد انہیں واپس اسی جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں وہ 1995 میں قتل کے ایک مقدمے میں گزشتہ 30 برس سے قید ہیں۔
کرسٹا پائیک کو 18 سال کی عمر میں کولین سلیم نامی لڑکی کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس جرم میں ان کے ساتھ ان کا اس وقت کا دوست بھی شامل تھا، تاہم نابالغ ہونے کے باعث اسے سزائے موت نہیں دی گئی تھی۔
واقعے کے بعد ٹینیسی کے گورنر بل لی نے ریاست میں تمام سزائے موت پر عملدرآمد رواں سال کے باقی عرصے کے لیے روک دیا ہے اور اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ اصلاحات کے کمشنر فرینک اسٹرادا نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
متاثرہ لڑکی کی والدہ مے مارٹنیز، جو اس دن پھانسی کے عمل کو دیکھنے کے لیے موجود تھیں، نے اس واقعے کو ایک 'بدانتظامی' قرار دیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف انصاف کی متلاشی تھیں لیکن یہ عمل انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوا۔
کرسٹا پائیک کے وکلاء نے وفاقی جج سے درخواست کی ہے کہ انہیں تنہائی سے نکال کر دیگر قیدیوں کے ساتھ ملنے کی اجازت دی جائے۔ وکلاء کا موقف ہے کہ ناکام پھانسی کے بعد تنہائی میں رکھنے سے ان کی ذہنی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
گورنر بل لی نے حال ہی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کا امکان رکھتے ہیں کہ کرسٹا پائیک کی سزا وہی رہے گی جو پہلے تھی، جب تک کہ عدالتیں اس میں کوئی تبدیلی نہ لائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ عدالتی فیصلوں کے پابند ہیں۔
کرسٹا پائیک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ اپنی بحالی کے عمل سے گزر رہی ہیں اور پہلے سے بہتر محسوس کر رہی ہیں، تاہم مکمل صحت یابی ابھی دور ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اب بھی اس واقعے کے صدمے سے باہر نہیں آ سکیں۔
واضح رہے کہ 2026 میں ٹینیسی میں یہ دوسرا موقع تھا جب سزائے موت پر عملدرآمد کا عمل ناکام ہوا۔ اس سے قبل مئی میں ٹونی کیروتھرز کی پھانسی بھی اس وقت ملتوی کر دی گئی تھی جب حکام ان کے جسم میں انجیکشن لگانے کے لیے رگ تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کرسٹا پائیک تاریخ کی واحد قیدی سمجھی جاتی ہیں جو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت کی کوشش سے زندہ بچی ہیں۔ اس واقعے نے امریکہ میں سزائے موت کے طریقہ کار پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
کرسٹا پائیک کی دوست اور 'چائلڈ ارائز ٹینیسی' کی بانی بیتھنی مان نے کہا کہ وہ مسلسل ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ انہوں نے گورنر کی جانب سے سزائے موت کے طریقہ کار پر نظرثانی کی بجائے اسے جاری رکھنے کے ارادے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔




اپنی رائے دیں