حیدرآباد میں کھیلے جانے والے چوتھا ٹی ٹوئنٹی میچ اس وقت تاریخ کا حصہ بن گیا جب بھارتی کپتان نے اننگز کے اختتام سے قبل ہی اپنے کھلاڑیوں کو میدان سے واپس بلا لیا۔ یہ عجیب و غریب واقعہ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار سامنے آیا جب کسی ٹیم نے مقررہ اوورز مکمل کیے بغیر اپنی اننگز ختم کردی۔
بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پانچ میچوں پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کا چوتھا معرکہ حیدرآباد کے میدان میں سجایا گیا تھا جہاں شائقین کو انتہائی دلچسپ اور غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں ایک بڑا ہدف ترتیب دیا جس کے تعاقب میں بھارتی ٹیم مشکلات کا شکار نظر آئی۔
مہمان ٹیم ویسٹ انڈیز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزبان سائیڈ کو جیت کے لیے دو سو اڑتالیس رنز کا پہاڑ جیسا ہدف دیا۔ اس بڑے ہدف کے تعاقب میں بھارتی بلے بازوں نے بھرپور کوشش کی لیکن ہدف تک پہنچنا انتہائی مشکل ثابت ہوا۔
میچ کے آخری لمحات میں جب نتیجہ میزبان ٹیم کی گرفت سے باہر ہو چکا تھا تو ایک ناخوشگوار صورتحال نے جنم لیا۔ بھارتی ٹیم کی آخری وکٹ کریز پر موجود تھی اور جیت کے لیے آخری اوور میں رنز کی تعداد بہت زیادہ رہ گئی تھی۔
اس مرحلے پر کریز پر موجود بھارتی فاسٹ بولر ارشدیپ سنگھ شدید زخمی ہو گئے جنہیں کندھے کی تکلیف کے باعث بیٹنگ کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ویسٹ انڈیز کے تیز گیند باز نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلسل باؤنسرز کرانا شروع کر دیے تاکہ کھیل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
اسی دوران ایک تیز رفتار باؤنسر سیدھا ارشدیپ سنگھ کے بائیں کندھے پر جا لگا جس سے ان کی تکلیف میں مزید اضافہ ہو گیا۔ وہ میدان میں درد سے نڈھال دکھائی دیے اور ان کے لیے بیٹ تھامنا بھی محال ہو چکا تھا۔
ڈاگ آؤٹ میں بیٹھے بھارتی کپتان شریاس ائیر نے جب اپنے کھلاڑی کی یہ تکلیف دہ حالت دیکھی تو انہوں نے ایک انتہائی غیر معمولی اور بڑا فیصلہ کیا۔ انہوں نے مزید رسک لینے یا کھلاڑی کی چوٹ کو بڑھانے کے بجائے اننگز کو وہیں ختم کرنے کا ارادہ کر لیا۔
کپتان شریاس ائیر نے فوری طور پر میدان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے بلے بازوں کو واپس بلانے کا حکم دے دیا۔ اس طرح میچ میں ابھی تین گیندیں باقی تھیں کہ بھارتی اننگز کو وقت سے پہلے ہی ختم قرار دے دیا گیا۔
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی کپتان نے اوورز باقی ہوتے ہوئے اپنی ٹیم کی اننگز اس انداز میں ختم کی۔ اس فیصلے نے اسٹیڈیم میں موجود شائقین اور مبصرین کو شدید حیرت میں مبتلا کر دیا کیونکہ اس سے قبل اس فارمیٹ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی تھی۔
ضابطے کے مطابق اس انوکھے اقدام کے بعد میچ کا باضابطہ نتیجہ سامنے آیا اور ویسٹ انڈیز نے یہ مقابلہ جیت لیا۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی پانچ میچوں کی سیریز دو دو سے برابر ہو گئی جس نے سیریز کے آخری معرکے کو انتہائی اہم بنا دیا۔
ویسٹ انڈیز نے اس چوتھے میچ میں شاندار کامیابی سمیٹ کر سیریز میں واپسی کی اور دونوں ٹیمیں اب فیصلہ کن معرکے کے لیے تیار ہیں۔ سیریز کا آخری اور پانچواں ٹی ٹوئنٹی میچ دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا جو سیریز کا فیصلہ کرے گا۔
کرکٹ کے حلقوں میں شریاس ائیر کے اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے جہاں کچھ لوگ اسے کھلاڑی کی حفاظت کے لیے ضروری قدم قرار دے رہے ہیں۔ طبی ماہرین اور سابق کھلاڑی بھی اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی کھلاڑی کی صحت کھیل سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
یہ واقعہ آنے والے وقتوں میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی تاریخ کا ایک اہم باب رہے گا جب ایک کپتان نے میچ کے آخری لمحات میں ضابطے سے ہٹ کر انسانی ہمدردی اور کھلاڑی کی حفاظت کو ترجیح دی۔ کھیل کے میدان میں ایسی مثالیں کم ہی ملتی ہیں جہاں ٹیم کا مفاد چھوڑ کر کھلاڑی کی فٹنس کو مقدم رکھا جائے۔




اپنی رائے دیں