سپین میں حالیہ ہولناک ٹرین حادثے نے ملک کے سیاسی منظر نامے کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے اور قبل از وقت انتخابات کی تمام مساوات بدل گئی ہیں۔ اس المناک واقعے کے بعد سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی مہم کی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلیاں شروع کر دی ہیں، جہاں اب سکیورٹی اور ریلوے انفراسٹرکچر کے امور سرفہرست آ گئے ہیں۔
پہلے سے طے شدہ انتخابی شیڈول کے مطابق ملک میں 29 نومبر کو پولنگ ہونی ہے، اور حکمران سوشلسٹ پارٹی ہاؤسنگ بحران اور مہنگائی جیسے مسائل کو بنیاد بنا کر ووٹرز کو راغب کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ تاہم اس ناگہانی سانحے نے انتخابی مباحثے کا رخ یکسر موڑ دیا ہے اور حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں۔
حادثے کے دن ہی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے سوشل میڈیا پر ملک کے مستقبل سے متعلق امید کا اظہار کیا تھا، لیکن اس کے ایک گھنٹے کے اندر ہی اس المناک واقعے کی اطلاعات سامنے آنے لگیں۔ اس حادثے میں 69 افراد جاں بحق ہو گئے، جس نے ملک بھر میں سوگ کی فضا پیدا کرنے کے ساتھ حکومت کو شدید دباؤ میں لا دیا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے حکومت کو کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے، اور حکومتی نااہلی کو انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ بنا لیا ہے۔ پاپولر پارٹی اور دیگر سیاسی دباؤ کے پیش نظر حکومت کو اپنی کارکردگی اور انتظامی صلاحیتوں کا دفاع کرنے کے لیے کٹھن چیلنجز کا سامنا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق میڈرڈ سے سیویلا جانے والی تیز رفتار ٹرین اسی ٹریک پر کھڑی ایک اور ٹرین سے جا ٹکرائی تھی۔ یہ المناک واقعہ دارالحکومت کے قریب ٹولیڈو کے نزدیک پیش آیا، جس کے بعد ریلوے کے نظام اور سکیورٹی پروٹوکولز پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔
سرکاری حکام نے اس حادثے کی وجہ ٹرین کنٹرول سسٹم میں خرابی بتائی ہے، جو ماضی سے اس روٹ پر استعمال ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اگرچہ وزیر ٹرانسپورٹ نے ریلوے نظام کو محفوظ اور قابلِ اعتماد قرار دینے کی کوشش کی ہے، لیکن ماہرین اور سابق حکام کی جانب سے انفراسٹرکچر کی خامیوں پر کھل کر تنقید کی جا رہی ہے۔
اسپین کے اس تیز رفتار ریل نیٹ ورک کو دنیا بھر میں ایک اہم پبلک سروس سمجھا جاتا ہے، جو سالانہ کروڑوں مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کرتا ہے۔ اس سے قبل بھی سنہ 2013 میں سانتیگو دے کومپوستیلا کے قریب پیش آنے والے حادثے میں اسی طرح قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
حالیہ سروے رپورٹس کے مطابق عوام کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی ریلوے خدمات کے معیار میں کمی پر تحفظات کا اظہار کر چکی تھی، اور اب اس نئے حادثے کے بعد عوامی اعتماد کو مزید زک پہنچی ہے۔ وزیر اعظم کے لیے اس نازک وقت پر عوام کے خدشات کو دور کرنا اور جوابدہی کو یقینی بنانا ایک بڑا امتحان بن گیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ قدامت پسند پاپولر پارٹی اس صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے، کیونکہ اپوزیشن کو اب حکومت پر حملے کرنے کا ایک مضبوط جواز مل گیا ہے۔ پاپولر پارٹی کے رہنما البرٹو نونیز فیجو نے واقعے کے بعد اپنی انتخابی مہم دو دن کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب دائیں بازو کی شدت پسند جماعت ووکس کے رہنما نے اس سانحے پر انتہائی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے موجودہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ٹرانسپورٹ وزارت کے باہر مظاہرین کی بڑی تعداد نے حکومت کی مبینہ نااہلی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا اور استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔
حکمران سوشلسٹ پارٹی کو ان انتخابات میں پہلے ہی مہنگائی، امیگریشن کے مسائل اور اندرونی حلقوں میں کرپشن اسکینڈلز کی وجہ سے مشکلات کا سامنا تھا۔ حالیہ مہینوں میں ملک کے مختلف شہروں میں رہائشی بحران اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے تھے۔
وزیر اعظم سانچیز اس سانحے سے قبل غیر فیصلہ کن بائیں بازو کے ووٹرز کی بڑی تعداد کو اپنی فلاحی پالیسیوں کے ذریعے قائل کرنے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ مگر اب ان کی تمام تر توجہ سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے بجائے اس قدرتی یا تکنیکی آفت کے اثرات سے نمٹنے پر مرکوز ہو گئی ہے۔
انتخابی دوڑ میں تازہ ترین سروے کے نتائج کے مطابق پاپولر پارٹی 31.5 فیصد ووٹوں کے ساتھ سرفہرست نظر آ رہی ہے۔ جبکہ حکمران سوشلسٹ پارٹی 26.7 فیصد حمایت کے ساتھ دوسرے اور ووکس پارٹی 19.1 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔


اپنی رائے دیں