مواد پر جائیں
ہفتہ، 31 اکتوبر 2026 20 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ عوام اور معیشت کے تحفظ کیلئے کیا، وزیراعظمسیالکوٹ: ٹک ٹاکر پتلو کی مہندی کی تقریب میں بھگدڑ، 14 افراد زخمیشاداب خان سر پر چوٹ لگنے کے باعث سری لنکا کے خلاف فائنل سے باہرپاکستان ایران امریکا کشیدگی کم کرانے کیلئے محتاط طور پر پرامید ہے: ڈی جی آئی ایس پی آرنوشہرہ: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ شدید زخمیکراچی: سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیر پراسرار طور پر انتقال کر گئےلکی مروت جوڈیشل کمپلیکس میں فائرنگ، پولیس اہلکار جاں بحق اور پیپلز پارٹی رہنما سمیت دو زخمیاپ ڈیٹ: فخر زمان کی سنچری، پاکستان نے سری لنکا کو ہرا کر ٹرائی سیریز جیت لیاپ ڈیٹ: کراچی: لیاقت آباد حادثے میں جاں بحق حاملہ خاتون کی 3 نومبر کو ڈیلیوری متوقع تھیکیپٹن (ر) صفدر کے متنازع بیان پر مریم نواز کا اظہارِ مایوسیاینڈرائیڈ اسمارٹ فونز میں سنگین سیکیورٹی خامی کا انکشافعاصم اظہر کی سالگرہ کی ویڈیو پر مداحوں کی جانب سے قیاس آرائیاںپنجاب کے 6 سرکاری تعلیمی اداروں کے نام تبدیل کرنے کا فیصلہکیپ ٹاؤن ٹیسٹ: جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو جیت کے لیے 288 رنز کا ہدف دے دیامحکمہ موسمیات کی ملک بھر میں موسم کی صورتحال کے حوالے سے پیشگوئیشام کا مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور، وزیر خارجہ اسد الشیبانی کا بیانفیصل آباد اور لاہور کے درمیان ٹرین سروس 3 ماہ سے معطل، ریلوے کو کروڑوں کا نقصانمرید کے میں نشے کے عادی شوہر نے بچوں کے سامنے بیوی کا گلا کاٹ دیاراولپنڈی: ٹیکسلا سے پشاور جانے والی ہائی ایس وین حادثے میں 3 افراد جاں بحقحیدرآباد میں سڑک کے بیچ کھمبے چھوڑنا منصوبہ بندی کا حصہ تھا: مراد علی شاہ
کاروبار

فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرنے پر غور، مستفید افراد کی تعداد دو کروڑ تک بڑھانے کا امکان

وفاقی حکومت کی جانب سے فیول ریلیف اسکیم کو وسعت دینے کی تجویز زیر غور ہے جس سے لاکھوں مزید شہریوں کو مالی ریلیف مل سکے گا۔

فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرنے پر غور، مستفید افراد کی تعداد دو کروڑ تک بڑھانے کا امکان
تصویر: city42.tv

وفاقی حکومت کی جانب سے عوام کو پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے مزید ریلیف فراہم کرنے کے لیے فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ توسیع کا بنیادی مقصد ملک بھر میں سفری اخراجات کے بوجھ تلے دبے عام شہریوں کی مالی مشکلات کو کم کرنا اور زیادہ سے زیادہ افراد کو اس سہولت کے دائرے میں لانا ہے۔

موجودہ حکومتی منصوبے کے تحت فیول ریلیف اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے شہریوں کی تعداد جو فی الحال ایک کروڑ ستائیس لاکھ کے لگ بھگ ہے، اسے بڑھا کر دو کروڑ تک کرنے کی تجاویز پر غور جاری ہے۔ اس ممکنہ اضافے سے لاکھوں ایسے نئے افراد اس ریلیف سے مستفید ہو سکیں گے جو اس وقت مہنگائی کے دور میں سفری لاگت میں اضافے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کی جانب سے اس حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں جن کے مطابق پیٹرول ریلیف پروگرام میں وسعت لانے کی تجویز اس وقت حکومتی سطح پر زیر غور ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ اس اہم معاملے پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ صادر نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس پر عمل درآمد کی باضابطہ تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔

موجودہ پالیسی اور قواعد کے مطابق اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکل چلانے والے افراد، تھری وہیلر یعنی رکشہ اور چنگچی چلانے والے صارفین کے علاوہ آٹھ سو سی سی سے کم انجن کی حامل چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو فی لیٹر ایک سو روپے تک کا پیٹرول ریلیف فراہم کیا جاتا ہے۔ حکومتیحکام ان تمام زمروں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

موجودہ دور میں مہنگائی کی لہر اور ایندھن کی بلند قیمتوں نے نقل و حرکت کے اخراجات کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے، جس کا براہ راست اثر عام شہریوں اور متوسط طبقے کی روزمرہ زندگی پر پڑ رہا ہے۔ حکومت اسی مالی دباؤ کو کم کرنے کی غرض سے اس فلاحی اسکیم کے دائرے کو پھیلانے کے مختلف انتظامی اور مالیاتی پہلوؤں کا احاطہ کر رہی ہے۔

اگر حکومت کی جانب سے مجوزہ توسیع کی منظوری دے دی جاتی ہے تو ملک بھر سے مزید لاکھوں نئے مستحق افراد اس اسکیم کا حصہ بن جائیں گے۔ اس اقدام سے موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو اپنے روزمرہ کے سفری اخراجات میں خاطر خواہ کمی دیکھنے کو ملے گی جو کہ عوامی فلاح کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو گا۔

تاہم حکومتی ذرائع اور متعلقہ حلقوں کے مطابق تاحال ریلیف کی رقم میں اضافے، اہلیت کے نئے معیار یا رجسٹریشن کے طریقہ کار میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے متعلق کوئی بھی حتمی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ یہ تمام امور ابھی تجارتی اور انتظامی مشاورت کے مراحل میں ہیں اور حتمی منظوری کے بعد ہی عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

جب تک وفاقی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اور حتمی اعلان نہیں کیا جاتا، اس وقت تک فیول ریلیف اسکیم کے تمام پرانے قواعد و ضوابط اور طریقہ کار مکمل طور پر برقرار رہیں گے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف مستند سرکاری اعلانات پر توجہ دیں اور افواہوں سے گریز کریں۔

حکومت کی معاشی ٹیم ملک کے مالیاتی وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کس طرح بغیر کسی اضافی بوجھ کے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔ اس قسم کے اقدامات کا بنیادی مقصد معاشی اصلاحات کے دوران نچلے اور متوسط طبقے کے مفاد کا تحفظ کرنا ہے۔

ملک میں بڑھتی ہوئی ٹرانسپورٹ لاگت کے تناظر میں اس اسکیم کی توسیع کو عوامی حلقوں کی طرف سے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عوام کی جانب سے مسلسل یہ مطالبات سامنے آتے رہے ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناسب سے ریلیف پیکیج کا دائرہ بھی وسیع کیا جائے۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر دائرہ کار دو کروڑ تک بڑھایا جاتا ہے تو اس کے لیے شفاف ڈیٹا اور موثر تقسیم کے نظام کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ امداد واقعی حق دار افراد تک پہنچ سکے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات پر غور کر رہی ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

اسکیم کے پچھلے مراحل میں بھی نادرا اور دیگر متعلقہ اداروں کے ڈیٹا کی مدد سے مستحقین کی جانچ پڑتال کی گئی تھی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ صرف حقیقی اور مستحق شہری ہی اس مالی امداد سے فائدہ اٹھا سکیں۔ توسیع کی صورت میں بھی ایسے ہی طریقہ کار کو اپنانے کا امکان ہے۔

مجموعی طور پر فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرنے کا یہ اقدام حکومت کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت غریب اور متوسط طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے ہدف بند امداد فراہم کی جارہی ہے۔ جیسے ہی حتمی منظوری دی جائے گی، اس کے نفاذ کا لائحہ عمل بھی جاری کر دیا جائے گا۔

اس موضوع پر مزید خبریں

کاروبار کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں