کراچی کی ماڈل کرمنل کورٹ ایسٹ نے گلستان جوہر میں پیش آنے والے جعلی پولیس مقابلے کے ایک انتہائی اہم مقدمے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر پولیس اہلکار شہریار کو سزائے موت کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے اس کیس میں ملوث دیگر دو شریک ملزمان، ناصر اور فیصل کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ فیصلے کے مطابق تینوں مجرموں کو مقتول کے ورثا کو بطور ہرجانہ پانچ پانچ لاکھ روپے کی رقم بھی ادا کرنی ہوگی۔
مقدمے کی تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 2022 میں پیش آیا تھا، جس کے بعد تھانہ شاہراہ فیصل میں پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پراسیکیوشن نے عدالت میں واقعے کے تمام شواہد پیش کیے۔
پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ شاہین فورس کے اہلکاروں نے گلشن اقبال کے علاقے میں عامر نامی نوجوان کو رکنے کا اشارہ کیا تھا۔ نوجوان کے نہ رکنے پر پولیس اہلکاروں نے اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔
پولیس اہلکار پیچھا کرتے ہوئے ایک رہائشی فلیٹ میں داخل ہو گئے جہاں انہوں نے نوجوان عامر پر فائرنگ کر دی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گیا تھا، جس سے علاقے میں شدید غم و غصہ پایا گیا تھا۔
واقعے کے فوراً بعد ملوث اہلکاروں نے اسے ایک پولیس مقابلہ قرار دے کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی تھی۔ تاہم تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ مقابلہ جعلی تھا اور نوجوان کو بلاوجہ نشانہ بنایا گیا تھا۔
عدالت نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے اور گواہان کے بیانات سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ آج فیصلہ سناتے ہوئے جج نے قرار دیا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور شہریوں کی جان کی حفاظت پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔
مقتول کے لواحقین نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے انصاف کی فراہمی قرار دیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ پولیس فورس میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور غیر قانونی اقدامات کی روک تھام کے لیے اہم ہے۔
شہر میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے عدالتوں کا سخت موقف عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وردی کی آڑ میں قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف ایسی کارروائیاں ناگزیر ہیں۔
مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے ٹھوس شواہد اور فرانزک رپورٹس کی مدد سے ملزمان کا جرم ثابت کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کسی بھی شہری کو بلاوجہ نشانہ بنانا سنگین جرم ہے جس کی سزا ملنی چاہیے۔
فیصلے کے بعد ملزمان کو سخت سیکیورٹی میں جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مجرموں کو مزید قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کی تفصیلات عدالتی آرڈر میں شامل ہیں۔
کراچی میں پولیس کے ہاتھوں جعلی مقابلوں کے واقعات پر ماضی میں بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اس کیس کا فیصلہ ایک مثال بنے گا تاکہ مستقبل میں کوئی بھی اہلکار اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے کسی کی جان نہ لے سکے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ پولیس فورس کا کام عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ انہیں خوفزدہ کرنا۔ قانون کی بالادستی ہی معاشرے میں امن و امان کا واحد ذریعہ ہے۔





اپنی رائے دیں