مواد پر جائیں
اتوار، 1 نومبر 2026 21 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
جرمنی کے 34 شہروں میں نوجوانوں کا احتجاج، پرتشدد واقعات میں پولیس اہلکار زخمیکراچی پورٹ پر کھاد اور گندم سے لدے دو جہازوں کی آمداوپیک پلس کا دسمبر میں تیل کی پیداوار کے اہداف برقرار رکھنے کا فیصلہسوئی ناردرن نے گیس کے نئے گھریلو کنکشنز پر پابندی غیر معینہ مدت تک بڑھا دیکবাڈی چیمپئنز لیگ کے دوسرے ایڈیشن میں دس ٹیمیں شاملوزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ٹرائی اینگلر سیریز کا فائنل جیتنے پر قومی ٹیم کو مبارکبادبھارت میں ٹریفک حادثہ، معروف گلوکار ہنی سنگھ کا بھانجا جاں بحقایرانی حملوں سے مشرق وسطیٰ میں 24 امریکی فوجی اڈے اور 274 عمارتیں تباہلاہور میں ٹرین حادثے اور مختلف واقعات میں خاتون سمیت چار افراد جاں بحقسیالکوٹ: ٹک ٹاکر کی مہندی تقریب میں بھگدڑ، ایک شخص ہلاکبائنانس نے سائبر حملے کے دوران چرائے گئے اثاثوں کا نوے فیصد حصہ واپس کر دیاآسٹریلوی پی جی اے چیمپئن شپ، تاریخی جو کرک ووڈ کپ سڈنی پہنچ گیاامہرسٹ کالج نے ٹفٹس یونیورسٹی کو 21 کے مقابلے میں 24 پوائنٹس سے شکست دیصادق پبلک اسکول بہاولپور نے تقریری مقابلے کی ٹرافی جیت لیقاہرہ کی مرکزی شاہراہ پر ڈیجیٹل بل بورڈ ہیک، نازیبا ویڈیو نشرپاکستان کو جی 24 کی چیئرمین شپ ملنے پر وزیراعظم کا خیرمقدملاہور: شالیمار پولیس نے 6 سالہ بچے سے بدفعلی کی کوشش ناکام بنادی، ملزم گرفتارلاہور: ٹرائی سیریز پر بہترین ٹریفک انتظامات، سی ٹی او کی افسران کو شاباشڈولفن سکواڈ کی کارروائیاں، 10 اشتہاریوں سمیت 18 عادی مجرمان گرفتاراین سی سی آئی اے کی کارروائیاں، خواتین کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان دبوچ لیے
پاکستان

بچوں کے محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کیلئے نیشنل پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد

اسلام آباد میں منعقدہ مکالمے میں 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر والدین کی تصدیق لازمی قرار دینے کی سفارش کی گئی۔

بچوں کے محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کیلئے نیشنل پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد

اسلام آباد میں بچوں کے محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے 'نیشنل پالیسی ڈائیلاگ آن سیف اسکرول' کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم تقریب کا اہتمام چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب اور وزارتِ انسانی حقوق نے یونیسف پاکستان اور یو این ایف پی اے کے تعاون سے کیا۔

اس مکالمے کا بنیادی مقصد بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات سے محفوظ رکھنا، سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا اور اس حوالے سے مؤثر قانونی و پالیسی اقدامات کے لیے قومی سطح پر مشاورت کو آگے بڑھانا تھا۔

چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب کی چیئرپرسن سارہ احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے 10 اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل دور میں بچوں کے حقوق، رازداری اور سلامتی کے تحفظ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

سارہ احمد کی جانب سے پیش کردہ سفارشات میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لیے والدین کی تصدیق شدہ رضامندی اور عمر کی تصدیق کا ایک قابلِ اعتماد نظام متعارف کروانے پر زور دیا گیا ہے۔

انہوں نے وفاقی اور صوبائی اداروں کے مابین مؤثر رابطہ کاری، آن لائن شکایات پر فوری کارروائی، سائبر بُلنگ، ڈیجیٹل گرومنگ اور آن لائن ہراسانی کی روک تھام کے لیے مربوط اقدامات کو ناگزیر قرار دیا۔

اس موقع پر اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ بچوں کا تحفظ ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی اور ادارہ جاتی تعاون کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

وفاقی وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچوں کو سائبر بُلنگ اور ڈیجیٹل گرومنگ سے بچانے کے لیے ایک مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا۔

آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے بھی تقریب میں شرکت کی اور بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے اس ضمن میں بین الاقوامی تجربات سے استفادہ کرنے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

نیشنل پالیسی ڈائیلاگ میں آئی ٹی کے ماہرین، قانونی مشیران، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کی ریگولیشن اور ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

مختلف سیشنز کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے مواقع سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت، والدین اور ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

تقریب کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ محفوظ اسکرولنگ ہر بچے کا بنیادی حق ہے، جس کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور قانونی حدود کا تعین کرنا ضروری ہے۔

یہ مکالمہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جاری حکومتی کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

پاکستان کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں