مواد پر جائیں
اتوار، 1 نومبر 2026 21 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
پاکستان نے عمان کو شکست دے کر ہانگ کانگ سکسز پلیٹ ٹائٹل جیت لیابنڈس لی گا: بائرن میونخ اور بوروسیا ڈورٹمنڈ کا میچ 2-2 سے برابرفرح خان نے ایشوریہ رائے کو بالی وڈ کی واحد قدرتی خوبصورت اداکارہ قرار دے دیابرطانیہ کے شہر کوونٹری میں والدین کے ایصالِ ثواب کے لیے محفلِ قرآن خوانیبیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کے لیے اہم ہدایات جاریپی آئی اے کے فضائی بیڑے میں پہلا جدید بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر شاملجرمنی کے 34 شہروں میں نوجوانوں کا احتجاج، پرتشدد واقعات میں پولیس اہلکار زخمیکراچی پورٹ پر کھاد اور گندم سے لدے دو جہازوں کی آمدسوئی ناردرن نے گیس کے نئے گھریلو کنکشنز پر پابندی غیر معینہ مدت تک بڑھا دیکবাڈی چیمپئنز لیگ کے دوسرے ایڈیشن میں دس ٹیمیں شاملوزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ٹرائی اینگلر سیریز کا فائنل جیتنے پر قومی ٹیم کو مبارکبادبھارت میں ٹریفک حادثہ، معروف گلوکار ہنی سنگھ کا بھانجا جاں بحقایرانی حملوں سے مشرق وسطیٰ میں 24 امریکی فوجی اڈے اور 274 عمارتیں تباہلاہور میں ٹرین حادثے اور مختلف واقعات میں خاتون سمیت چار افراد جاں بحقسیالکوٹ: ٹک ٹاکر کی مہندی تقریب میں بھگدڑ، ایک شخص ہلاکبائنانس نے سائبر حملے کے دوران چرائے گئے اثاثوں کا نوے فیصد حصہ واپس کر دیاآسٹریلوی پی جی اے چیمپئن شپ، تاریخی جو کرک ووڈ کپ سڈنی پہنچ گیاامہرسٹ کالج نے ٹفٹس یونیورسٹی کو 21 کے مقابلے میں 24 پوائنٹس سے شکست دیصادق پبلک اسکول بہاولپور نے تقریری مقابلے کی ٹرافی جیت لیقاہرہ کی مرکزی شاہراہ پر ڈیجیٹل بل بورڈ ہیک، نازیبا ویڈیو نشر
پاکستان

کوئٹہ: میر ہوٹل کے قریب پولیس موبائل پر حملہ، ایک اہلکار شہید، 4 زخمی

نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں پولیس کانسٹیبل جام شہادت نوش کر گئے، زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کوئٹہ: میر ہوٹل کے قریب پولیس موبائل پر حملہ، ایک اہلکار شہید، 4 زخمی

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں نامعلوم مسلح ملزمان نے پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ شہید امیر محمد دستی پولیس تھانے کی حدود میں میر ہوٹل کے قریب ہوا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایس ایچ او سیٹیلائٹ ٹاؤن کی گاڑی معمول کے گشت پر تھی کہ اچانک فائرنگ کر دی گئی۔

اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں ایک پولیس کانسٹیبل موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ دیگر 4 اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے والے اہلکاروں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

واقعے کے بعد پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملہ آوروں کا سراغ لگایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس اہلکاروں پر حملہ انتہائی قابل مذمت عمل ہے اور اس سے امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

شاہد رند نے مزید کہا کہ شہید ہونے والے پولیس کانسٹیبل کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ زخمی اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے اور واقعے کی تحقیقات کا عمل جاری ہے۔

کوئٹہ میں سیکیورٹی کے حوالے سے حکام الرٹ ہیں اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل سخت کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے ایسے واقعات حوصلے پست نہیں کر سکتے اور سیکیورٹی فورسز اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھیں گی۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کو اکثر اس طرح کے چیلنجز کا سامنا رہتا ہے تاہم پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ واقعے کے بعد شہر میں سیکیورٹی کے مزید انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

پولیس کے اعلیٰ حکام نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان کی شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پائی جا رہی ہے جبکہ پولیس کی جانب سے تفتیش کو تیز کر دیا گیا ہے۔

سیاسی و سماجی حلقوں نے بھی اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ کوئٹہ میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدباب ممکن ہو سکے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی گئی ہے اور متعلقہ ہسپتال کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ زخمیوں کو علاج معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔ پولیس کی جانب سے واقعے کا مقدمہ درج کرنے کی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں امن کو برقرار رکھنے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی ضرورت ہے۔ پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن سے ہی ایسے واقعات کو روکا جا سکتا ہے جو شہریوں اور فورسز کے لیے نقصان دہ ہیں۔

حکومت بلوچستان نے اس واقعے کے بعد سیکیورٹی پلان پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس کے دستوں کو مزید مستعد رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ کیا جا سکے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

پاکستان کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں