ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور علاقائی سلامتی کے چیلنجوں کے تناظر میں اہم بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے ریاض پر حوثیوں کے حالیہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
صدر اردوان نے کابینہ کے اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین 7 اگست کو طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو ایک پائیدار اور مؤثر ادارہ جاتی ڈھانچے میں ڈھالنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس اہم معاہدے کی داخلی منظوری کے حصول کے لیے اسے آئندہ دنوں میں ترک پارلیمان میں پیش کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مستحکم بنانا ہے۔
ترک صدر نے 10 اکتوبر کو ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں 12 افراد جاں بحق جبکہ 309 زخمی ہوئے، جن میں عمرے کی ادائیگی کے لیے آنے والے افراد بھی شامل تھے۔
صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ خطے میں امن و استحکام کا مرکز بننے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لبنان سے یمن اور ایران تک پھیلی کشیدگی اور پراکسی قوتوں کی سرگرمیاں خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
ترک صدر نے زور دیا کہ علاقائی تنازعات کو جنگ کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا باہمی احترام ہی ترکیہ کے خارجہ پالیسی کے اصولی مؤقف کی بنیاد ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ہونے والی تمام سرگرمیاں ترکیہ کے قومی قوانین اور ضوابط کے تابع ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تعاون کو ایک فعال نظام کے طور پر استوار کیا جا رہا ہے۔
صدر اردوان نے ان قیاس آرائیوں کو یکسر مسترد کر دیا جن میں ترکیہ کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔
ترک صدر نے کہا کہ خطے کو انتشار اور تقسیم کی طرف دھکیلنے کی کوششیں صرف ان عناصر کے مفادات کی تکمیل کریں گی جو پورے خطے کو خونریزی میں مبتلا دیکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ علاقائی مسائل کو نسلی یا فرقہ وارانہ عینک سے نہیں دیکھتا۔ ان کا ملک خطے کے ممالک کی مشترکہ ذمہ داری اور باہمی تعاون کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے امن کے دفاع کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
ترک صدر نے جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ ہر مشکل گھڑی میں سعودی عرب اور اس کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔





اپنی رائے دیں