وزارتِ اطلاعات و نشریات نے خیبرپختونخوا میں مبینہ بے امنی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی گمراہ کن ویڈیوز اور تصاویر کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش کر دیے ہیں۔ حکومتی ترجمان کے مطابق یہ مواد حقائق کے منافی اور منظم پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔
وزارت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر لوڈشیڈنگ کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور شام کی پرانی ویڈیوز کو غلط کیپشنز کے ساتھ خیبرپختونخوا کا نام دے کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ عوام میں بے چینی پیدا ہو۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان گمراہ کن ویڈیوز کے ذریعے صوبے میں افراتفری کا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان سرگرمیوں میں مبینہ طور پر غیر ملکی سرپرستی اور بھارتی و افغان اکاؤنٹس کا کردار بھی نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔
یہ پروپیگنڈا مہم ایک ایسے وقت میں تیز ہوئی جب خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں۔ وزارت اطلاعات نے ان جھوٹی ویڈیوز کی حقیقت واضح کر کے عوام کو افواہوں سے بچنے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی قیادت کا موقف ہے کہ وہ آئینی و قانونی طریقے سے اس اقدام کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالتوں سے رجوع کرنا ہمارا جمہوری حق ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں اب تک ان کے سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم ایک دن کے اندر اس معاملے کو عدالت میں لے کر جائے گی۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں آئینی تقاضوں کو پورا کرنا انتہائی ضروری ہے۔
وزارت اطلاعات نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی کسی بھی غیر مصدقہ ویڈیو یا خبر پر یقین نہ کریں۔ حکومتی سطح پر حقائق کی تصدیق کے لیے سرکاری ذرائع پر انحصار کرنا ہی درست حکمت عملی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں غلط معلومات کا پھیلاؤ قومی سلامتی کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ منظم پروپیگنڈا مہمات کا مقصد اکثر معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا اور اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنا ہوتا ہے۔
خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں وفاقی اور صوبائی سطح پر سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے بیانیے کو مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہیں جبکہ حکومتی ادارے امن و امان برقرار رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس طرح کے مواد کی نگرانی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزارت اطلاعات نے واضح کیا ہے کہ غلط بیانیے کو ہوا دینے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
ملک میں جاری سیاسی ہلچل کے دوران شہریوں کو چاہیے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ کسی بھی حساس معاملے پر رائے قائم کرنے سے قبل اس کی تصدیق کرنا اور سرکاری وضاحتوں کو مدنظر رکھنا ہر شہری کی قومی ذمہ داری ہے۔
آنے والے دنوں میں عدالتوں میں ہونے والی سماعتیں اس سیاسی تنازعہ کا رخ متعین کریں گی۔ تحریک انصاف کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کے اعلان کے بعد اب عدالتی فیصلے پر سب کی نظریں مرکوز ہیں کہ اس معاملے کا قانونی حل کیا نکلتا ہے۔





اپنی رائے دیں