ٹیسٹ کرکٹ کی 149 سالہ تاریخ میں ایک ایسا حیرت انگیز ریکارڈ قائم ہو گیا ہے جسے مستقبل میں توڑنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ کرکٹ کے میدانوں میں اس سنگ میل کو عبور کرنے کا اعزاز آسٹریلیا کے معروف اور تجربہ کار چار رکنی بولنگ اٹیک کو حاصل ہوا ہے۔
آسٹریلوی ٹیم کے ان چار سرکردہ بولرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا بھر کے کھیلوں کے حلقوں میں اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔ یہ شاندار کامیابی آسٹریلوی کرکٹ کی بالادستی اور طویل المدتی فٹنس کا منہ بولتا ثبوت قرار دی جا رہی ہے۔
جنوبی افریقا کے خلاف کنگزمیڈ میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ کے دوران آسٹریلیا کے اس بولنگ یونٹ نے ایک نیا اور منفرد باب رقم کیا۔ اس میچ کے دوران آسٹریلوی بولرز نے مشترکہ طور پر 600 وکٹوں کا سنگ میل عبور کر کے نیا عالمی اعزاز اپنے نام کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق پیٹ کمنز، مچل اسٹارک، جوش ہیزل ووڈ اور نیتھن لائن نے ایک ساتھ 38 ٹیسٹ میچز میں شرکت کی۔ ان 38 میچز کے دوران اس خطرناک بولنگ کمینیشن نے مجموعی طور پر 602 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
ٹیسٹ کرکٹ کی ڈیڑھ صدی پر محیط تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ایک ٹیم کے چار بولرز نے اتنی بڑی تعداد میں وکٹیں ایک ساتھ حاصل کی ہوں۔ ماہرین کرکٹ کے مطابق اس ریکارڈ کا ٹوٹنا اس لیے بھی مشکل ہے کیونکہ جدید دور میں بولرز کا اتنے طویل عرصے تک ایک ساتھ کھیلنا آسان نہیں ہوتا۔
اس تاریخی فہرست میں دوسرا نمبر انگلینڈ کے نمایاں کھلاڑیوں کے پاس ہے جن میں معین علی، جیمز اینڈرسن، اسٹورٹ براڈ اور بین اسٹوکس شامل ہیں۔ ان انگریز کھلاڑیوں کا مجموعہ تقریباً 430 وکٹیں حاصل کر سکا تھا جو آسٹریلوی ریکارڈ سے کافی پیچھے ہے۔
فہرست میں تیسرے نمبر پر جنوبی افریقا کا بولنگ کمینیشن موجود ہے جس میں جیک کیلس، مکھایا این تینی، نکی بوئے اور شان پولاک شامل تھے۔ ان جنوبی افریقی کھلاڑیوں نے اپنے مشترکہ کیریئر میں 341 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
آسٹریلوی بولرز کی جانب سے قائم کردہ 602 وکٹوں کے اس بڑے مجموعے میں انفرادی کارکردگی بھی انتہائی شاندار رہی ہے۔ ٹیم کے کپتان اور لیڈ پیسر پیٹ کمنز اس فہرست میں 158 وکٹوں کے ساتھ سرفہرست نظر آتے ہیں۔
بائیں ہاتھ کے مایہ ناز فاسٹ بولر مچل اسٹارک نے اس مجموعے میں 155 وکٹیں حاصل کر کے اپنی ٹیم کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی تیز رفتار اور خطرناک بولنگ نے ہمیشہ حریف بلے بازوں کے لیے پریشانیاں پیدا کیں۔
تجربہ کار پیسر جوش ہیزل ووڈ نے شاندار نپی تلی لائن و لینتھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 150 وکٹیں اپنے نام کیں۔ ان کی مستقل مزاجی اور درست نشانہ بازی نے بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔
آسٹریلوی اسپن اٹیک کی قیادت کرنے والے نیتھن لائن نے بھی پیچھے نہ رہتے ہوئے 139 وکٹیں حاصل کیں۔ ان چاروں بولرز کے مختلف اور متنوع بولنگ انداز نے مخالف ٹیموں کے لیے مسلسل مشکلات کھڑی کی ہیں۔
پیٹ کمنز کی تیز رفتار گیندیں، مچل اسٹارک کی بائیں ہاتھ سے اندر آتی ہوئی سوئنگ، ہیزل ووڈ کی مسلسل ایک ہی جگہ پر گیند پھینکنے کی صلاحیت اس کامیابی کی بنیادی وجہ بنی۔ اس کے علاوہ نیتھن لائن کی گھومتی ہوئی گیندوں نے پچ پر بلے بازوں کے لیے جال بچھایا۔
کرکٹ شائقین اور مبصرین کی جانب سے اس ریکارڈ کو جدید ٹیسٹ کرکٹ کا ایک انمول باب قرار دیا جا رہا ہے۔ آسٹریلوی بولنگ یونٹ کی یہ کامیابی آنے والے کئی سالوں تک تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف سے درج رہے گی۔





اپنی رائے دیں