موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پوری دنیا میں شدت کے ساتھ ظاہر ہو رہے ہیں، جس کے پیش نظر ماہرین نے ایک نئی موسمیاتی ایمرجنسی ’سپر ایل نینو‘ کے حوالے سے تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ موسمیاتی رجحان آنے والے برسوں میں عالمی درجہ حرارت کو نئی بلندیوں پر لے جا سکتا ہے۔
یورپی یونین کی موسمیاتی نگرانی سروس، کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے ماہرین کے مطابق، سال 2026 اور 2027 دنیا کے لیے ریکارڈ گرم ترین سال ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ اور سپر ایل نینو کے مشترکہ اثرات بتائے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، بحرالکاہل کے ایک اہم خطے میں ستمبر کے دوران سمندری درجہ حرارت نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ سمندر کی سطح کا درجہ حرارت 29.70 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے، جو اب تک کا بلند ترین ریکارڈ ہے۔
ایل نینو کا یہ سلسلہ رواں سال جون میں شروع ہوا تھا اور تب سے اس کی شدت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جاپان کے محکمہ موسمیات نے بھی گزشتہ ہفتے اپنی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ موجودہ ایل نینو اپنی شدت کے اعتبار سے انتہائی بلند سطح پر پہنچ چکا ہے۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق ایل نینو کا عمل عام طور پر ہر 2 سے 7 سال کے وقفے سے نمودار ہوتا ہے اور اس کا دورانیہ 9 سے 12 ماہ پر محیط ہوتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی غیر معمولی طور پر گرم ہو جاتے ہیں، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں دنیا کے مختلف خطوں میں بارشوں کے معمولات، خشک سالی اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ درجہ حرارت میں یہ غیر معمولی اضافہ انسانی زندگی اور ماحولیاتی نظام کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل نینو اپنی شدت کے عروج کے بعد بھی عالمی درجہ حرارت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بحرالکاہل میں ذخیرہ ہونے والی اضافی حرارت فضا میں منتقل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے 2027 کے دوران بھی شدید گرمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
فی الوقت ایشیائی ممالک، خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے کئی شہر غیر معمولی گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ ان علاقوں میں درجہ حرارت کے معمولات متاثر ہوئے ہیں، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سائنسی ماہرین نے اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوسل فیولز کے استعمال میں فوری کمی لانے پر زور دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو محدود کرنا اشد ضروری ہے تاکہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری کی حد سے نیچے لایا جا سکے۔
ایل نینو کے اس موجودہ واقعے کو تاریخ کا سب سے طاقتور واقعہ قرار دینے کے حوالے سے ماہرین ابھی محتاط ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی حتمی شدت کا تعین وقت کے ساتھ ہی ممکن ہو سکے گا، تاہم موجودہ اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات صرف درجہ حرارت تک محدود نہیں بلکہ یہ سمندری حیات اور زرعی پیداوار پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ دنیا بھر کے ممالک اب ان موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کے متعلقہ ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ عوام کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں تاکہ گرمی کی شدت سے ہونے والے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔





اپنی رائے دیں