راولپنڈی میں لاہور سے آئی ہوئی آٹھ سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کا انتہائی دردناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں علاقہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب چوتھی جماعت اور حفظ کی طالبہ معصوم بچی اپنی والدہ اور چھوٹی بہن کے ہمراہ ایک عزیز کی شادی کی تقریب میں شرکت کی غرض سے لاہور سے سفر کر کے راولپنڈی پہنچی تھی۔
مدعی مقدمہ بچی کے والد نعمان اعجاز کے مطابق ان کا تعلق صوبائی دارالحکومت لاہور سے ہے اور ان کی اہلیہ اپنی دو کمسن بیٹیوں کو لے کر 23 ستمبر کو حیدر علی کی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے راولپنڈی روانہ ہوئی تھیں۔
راولپنڈی میں قیام کے دوران 25 ستمبر کی رات بچی پروین اختر نامی خاتون کے گھر سوئی ہوئی تھی جہاں یہ انتہائی قبیح اور شرمناک فعل سرزد ہوا جس نے تمام انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
شکایت میں تفصیلی طور پر بتایا گیا کہ ملزم حیدر علی سوئی ہوئی حالت میں معصوم بچی کو اٹھا کر زبردستی دوسرے کمرے میں لے گیا اور اس کے ساتھ انتہائی نازیبا اور گھناؤنی حرکات کیں جن کی تکلیف کی وجہ سے بچی کی آنکھ کھل گئی۔
معصوم بچی نے جب شدید تکلیف کے باعث چلانا چاہا تو دنگ رہ جانے والے ملزم نے اس کے منہ پر فوری طور پر ہاتھ رکھ کر اسے خاموش کرا دیا اور جان سے مارنے کی سنگین دھمکی دی تاکہ وہ کسی کو کچھ نہ بتا سکے۔
بچی کے والد نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ واقعے کے فورا بعد ملزم نے بچی کو دھمکایا کہ اس نے اگر اپنی دادی یا کسی اور کو اس بارے میں بتایا تو اسے بہت برے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
واپسی پر لاہور پہنچنے کے بعد جب معصوم بچی نے اپنی والدہ کو نچلے حصے میں شدید درد کی شکایت کی اور خوفزدہ حالت میں تمام روداد سنائی تو گھر والوں کے پاؤں تلے زمین نکل گئی اور اس گھناؤنے راز سے پردہ اٹھ گیا۔
متاثرہ بچی کو شدید خوف اور دہشت کے عالم میں اس کی والدہ فوری طور پر ایک مستند گائنا کالوجسٹ کے پاس لے گئیں جہاں طبی معائنے کے بعد ڈاکٹر نے واضح طور پر تصدیق کی کہ بچی کے ساتھ زیادتی کا مکروہ فعل کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ فوری طور پر اس بچی کا سرکاری اسپتال سے باقاعدہ معائنہ کرائیں اور اس گھناؤنے جرم میں ملوث ملزمان کے خلاف فوری طور پر متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کروائیں تاکہ انصاف مل سکے۔
ابتدائی تحقیقات اور مدعی کے بیان کے مطابق متاثرہ بچی نے یہ خوفناک واقعہ اپنی دادی زاہدہ پروین کو بھی بتا دیا تھا، جنہوں نے بروقت کارروائی کرنے کے بجائے مبینہ طور پر اس سنگین معاملے کو آپس میں ہی دبا دینے کی کوشش کی۔
دادی نے جب اس کی اطلاع ملزم کی نانی پروین اختر کو دی تو انہوں نے اپنی دیگر بیٹیوں عظمی اور شائستہ کو بلا کر آپس میں مشاورت کی اور اس معاملے کو رفع دفع کرنے کی سازش تیار کی۔
خاندان کے ان افراد نے شادی کے ماحول اور برادری کے ایک جگہ جمع ہونے کا عذر پیش کرتے ہوئے اس سنگین واقعے کو چھپانے کی کوشش کی اور کہا کہ یہاں کی رونق خراب ہو جائے گی اور عزت پر حرف آئے گا۔
ملزمان کی جانب سے مبینہ طور پر متاثرہ بچی اور اس کی دادی کو مسلسل ہراساں کیا جاتا رہا تاکہ وہ لاہور جا کر بچی کے والدین کو اصل حقیقت سے آگاہ نہ کریں اور معاملہ دبا رہے۔
متاثرہ معصوم بچی کو ذہنی اذیت دینے میں ایک اور کزن آیان علی کا نام بھی سامنے آیا ہے جو مبینہ طور پر اس تمام صورتحال سے مکمل آگاہ تھا اور بچی جب تک وہاں رہی اسے مسلسل ذہنی ٹارچر کرتا رہا۔
والد کی مدعیت میں متعلقہتھانے میں تمام حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا جس کے بعد پولیس نے فوری طور پر اپنی قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا۔
ایس پی راول بیدار بخت گوندل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تصدیق کی اور بتایا کہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم حیدر علی کو گرفتار کر لیا ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔
ایس پی راول بیدار بخت گوندل کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی، ہراسمنٹ یا تشدد کسی صورت قابل برداشت نہیں ہے اور اس جرم میں ملوث عناصر کسی رعیت کے مستحق نہیں ہیں۔
انہوں نے دوٹوک عزم ظاہر کیا کہ گرفتار ملزم کے خلاف تمام تر ٹھوس شواہد اکٹھے کر کے جلد از جلد عدالت میں مضبوط چالان پیش کیا جائے گا تاکہ قانون کے مطابق سخت سزا دی جا سکے۔





اپنی رائے دیں