لاہور سے حاصل ہونے والی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں نافذ کی گئی ہنگامی صورتحال کے حوالے سے ایک نہایت اہم وضاحت سامنے آ چکی ہے جس نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تمام قیاس آرائیوں کا مؤثر انداز میں قلع قمع کر دیا ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا کے مخصوص انفلوئنسرز اور اکاؤنٹس کی جانب سے مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت لگائی گئی ایمرجنسی کا دائرہ کار صرف مخصوص اضلاع تک محدود ہے۔
ان ذرائع کی طرف سے دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ یہ ایمرجنسی پورے صوبے کے بجائے صرف 12 اضلاع میں نافذ کی گئی ہے تاکہ عوامی سطح پر ایک خاص قسم کا ابہام اور غلط فہمی پیدا کی جا سکے جو کہ سراسر حقائق کے منافی بات ہے۔
مقتدر اور باخبر ذرائع نے اس قسم کے تمام بے بنیاد تاثرات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کی سوشل میڈیا کی خبروں کا حقیقت سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے اور تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔
سرکاری سطح پر وضاحت کی گئی ہے کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اور مصدقہ گزٹ نوٹیفکیشن اس بات کی واشگاف انداز میں گواہی دیتا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت نافذ کردہ ایمرجنسی کا اطلاق کسی ایک حصے پر نہیں بلکہ پورے صوبے پر ہے۔
آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق آئین پاکستان کا آرٹیکل 232 وفاقی حکومت کو یہ بنیادی اختیار فراہم کرتا ہے کہ وہ ملکی یا صوبائی سلامتی اور امن عامہ کی صورتحال کے پیش نظر ہنگامی نفاذ کا فیصلہ کرے اور اس پر سختی سے عملدرآمد کروائے۔
خیبر پختونخوا کے موجودہ حالات اور سیکیورٹی کے چیلنجز کے تناظر میں مرکزی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے ان تمام سنجیدہ اقدامات کا بنیادی مقصد صوبے کے طول و عرض میں امن و امان کی مستقل بحالی کو یقینی بنانا اور حالات کو معمول پر لانا ہے۔
انتظامی امور پر گہری نظر رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اہم ترین حکومتی کارروائیوں اور آئینی اقدامات کے بعد صوبائی سطح پر سرکاری مشینری اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں تاکہ عوام کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
حکومتِ پاکستان کے جاری کردہ گزٹ نوٹیفکیشن کی نقول اور تمام متعلقہ دستاویزی ثبوت اس امر کو واضح کرتے ہیں کہ اس فیصلے میں کسی بھی قسم کے ابہام کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی اور تمام قانونی تقاضوں کو پوری طرح ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے۔
عوام اور تمام متعلقہ حلقوں کی طرف سے بھی اس موقع پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ اس قسم کی افواہوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے جو اکثر غیر مصدقہ ذرائع یا سوشل میڈیا کی حد تک ہی محدود ہوتی ہیں۔
معاشرے کے باشعور طبقے اور میڈیا سے وابستہ افراد سے بارہا یہ اپیل کی جاتی رہی ہے کہ وہ کسی بھی حساس نوعیت کی خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کے مصدقہ سرکاری ذرائع اور مستند گزٹ نوٹیفکیشن کا بغور جائزہ ضرور لیا کریں۔
صوبائی اور وفاقی سطح کے تمام ذمہ دار اداروں کا اس حوالے سے یہ مؤقف ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے غلط پروپیگنڈے اور بے بنیاد افواہوں کو بروقت زائل کرنے کے لیے پوری طرح مستعد ہیں اور قانون کے مطابق تمام اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
آئندہ بھی اس قسم کے تمام اہم انتظامی اور آئینی فیصلوں کو مکمل شفافیت کے ساتھ عوام کے سامنے لایا جاتا رہے گا تاکہ کسی بھی سطح پر افواہ سازی کی فضا کو پنپنے کا موقع نہ ملے اور حقائق عوام کے سامنے واضح رہیں۔





اپنی رائے دیں