مواد پر جائیں
اتوار، 1 نومبر 2026 21 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
پاکستان نے عمان کو شکست دے کر ہانگ کانگ سکسز پلیٹ ٹائٹل جیت لیااپ ڈیٹ: پاکستان نے جی 24 کی صدارت سنبھال لی، عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات پر زورخیبر پختونخوا: مخدوش اسکول عمارتوں سے طلبہ کی فوری منتقلی کا حکمپین پیسیفک اوپن: ڈیانا شنائیڈر نے لیلیٰ فرنینڈس کو شکست دے کر ٹائٹل جیت لیاملک بھر میں جعلی فلو ویکسین کی سپلائی کا انکشاف، ڈریپ کا الرٹ جاریکراچی: ڈیفنس بخاری کمرشل میں شہریوں کے دو گروپوں میں لڑائی کی ویڈیو وائرلامریکا کا ایران میں مزید ایک دو اہداف کو نشانہ بنانے کا عندیہبحیرہ اسود میں محدود جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی کوششیں تیزایران کی جانب سے امریکا کو کسی بھی ممکنہ جنگ کے طویل دورانیے کی تنبیہ28 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ تاحال موصول نہیں ہوا، سعید غنیبنڈس لی گا: بائرن میونخ اور بوروسیا ڈورٹمنڈ کا میچ 2-2 سے برابرفرح خان نے ایشوریہ رائے کو بالی وڈ کی واحد قدرتی خوبصورت اداکارہ قرار دے دیابرطانیہ کے شہر کوونٹری میں والدین کے ایصالِ ثواب کے لیے محفلِ قرآن خوانیبیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کے لیے اہم ہدایات جاریپی آئی اے کے فضائی بیڑے میں پہلا جدید بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر شاملجرمنی کے 34 شہروں میں نوجوانوں کا احتجاج، پرتشدد واقعات میں پولیس اہلکار زخمیکراچی پورٹ پر کھاد اور گندم سے لدے دو جہازوں کی آمدسوئی ناردرن نے گیس کے نئے گھریلو کنکشنز پر پابندی غیر معینہ مدت تک بڑھا دیکবাڈی چیمپئنز لیگ کے دوسرے ایڈیشن میں دس ٹیمیں شاملوزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ٹرائی اینگلر سیریز کا فائنل جیتنے پر قومی ٹیم کو مبارکباد
سیاست

دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں تو پیپلز پارٹی تیار ہے، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ہر صورت جاری رکھی جائے گی۔

دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں تو پیپلز پارٹی تیار ہے، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں سانحہ کارساز کے شہدا کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب کے موقع پر میڈیا کے نمائندگان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ملکی سیاسی صورتحال اور امن و امان کے امور پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سخت مؤقف اپنایا اور کہا کہ اگر تحریک انصاف کی صفوں میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت یا حوصلہ موجود نہیں ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی اس قومی فریضے کو انجام دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے سابقہ اور موجودہ سیاسی ماحول میں بعض عناصر کی جانب سے معاملات کو درست انداز میں نہیں چلایا گیا اور صوبائی سطح پر تعاون کے فقدان نے مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے ماضی کے فیصلوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس بات سے انکار ممکن نہیں ہے کہ ماضی میں افغانستان سے کچھ عناصر کو پاکستان لایا گیا اور جیلوں سے قیدیوں کو رہا کیا گیا جس کے منفی اثرات آج پورا ملک بھگت رہا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے بتایا کہ ملک کو درپیش شدید خطرات اور چیلنجز سے نبردآما ہونے کے لیے انہیں مجبوری کے تحت ہنگامی اقدامات اٹھانا پڑے کیونکہ سلامتی کے امور پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے جے یو آئی کے سربراہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اس زمینی حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ اس وقت خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے یہ مشورہ دیا کہ انہیں کھل کر دہشت گردی کی مذمت کرنی چاہیے اور ملک میں امن کے قیام کے لیے اپنا کلیدی سیاسی و پارلیمانی کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ پاکستان کے کسی بھی حصے میں کسی کو بھی قومی پرچم ہٹانے یا اس کے احترام کو مجروح کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور ریاست اس معاملے پر سخت مؤقف رکھے گی۔

ملکی دفاع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی جغرافیائی سرحدوں اور داخلی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہماری بہادر افواج گراں قدر قربرانی دے رہی ہیں اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔

اگر اپوزیشن واقعی ملک سے دہشت گردی اور ہنگامی حالات کا خاتمہ چاہتی ہے تو اسے تمام اختلافات بالائے طاق رکھ کر سنجیدہ مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے اور قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔

نئے صوبوں کے قیام کے آئینی عمل کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے اور یہ امور آئینی و قانونی دائرہ کار میں ہی طے پانے چاہئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی باضابطہ منظوری کے بغیر اس نوعیت کے اقدامات ممکن نہیں ہیں تاہم جہاں سیاسی اتفاق رائے موجود ہو وہاں اس معاملے پر پیش رفت کی جانی چاہیے۔

گلگت بلتستان کے عوام کے مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس خطے کے گھر گھر سے یہ شدید آواز اٹھ رہی ہے کہ اسے آئینی طور پر ایک باقاعدہ صوبے کا درجہ دیا جائے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کا جمہوری حق حاصل ہے اور تمام جماعتیں مولانا فضل الرحمان کا احترام کرتی ہیں جو موجودہ حالات میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس موضوع پر مزید خبریں

سیاست کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں