مواد پر جائیں
جمعہ، 6 نومبر 2026 26 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
ترک پارلیمنٹ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دیپشاور میں نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے جاں بحقایبٹ آباد اور دریا خان میں ٹریفک حادثات، 11 افراد جاں بحق، 30 زخمیپاکستان اور تاجکستان کی مشترکہ فوجی مشقیں ‘دوستی-III’ چیراٹ میں اختتام پذیروائٹ ہاؤس نے پیٹ ہیگسیٹھ اور مارکو روبیو کے مستعفی ہونے کی خبروں کی تردید کر دیبی آئی ایس پی کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر رکھا جائے، سینیٹر روبینہ خالدکرسٹیانو رونالڈو کی انٹرنیشنل فٹ بال سے ریٹائرمنٹ، پرتگال فٹ بال فیڈریشن کا خراجِ تحسینمحکمہ ریلوے کا جنوری تک 14 مال گاڑیاں چلانے کا فیصلہسپریم کورٹ نے ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے کے لیے 8 اصول طے کر دیےاسلام آباد میں ای سی او وزرائے کونسل اجلاس، تیاریوں کا جائزہپاکستان کی سعودی عرب کے مقدس مقامات پر حوثی میزائل حملوں کی شدید مذمتپیرس اولمپک گولڈ میڈلسٹ ایمان خلیف کا پروفیشنل باکسنگ میں ڈیبیو کا اعلانانگلینڈ فٹ بال ٹیم: کول پامر ڈراپ، جوب بیلنگھم پہلی بار اسکواڈ میں شاملیوتھ اولمپک گیمز: ریان ملہان اور ژانگ یی شن نے بیڈمنٹن میں طلائی تمغے جیت لیےکرکٹ میں دھوکہ دہی کا اسکینڈل، برائن ڈیوائن پر دو سال کی پابندی عائداپر کرم میں سکیورٹی اداروں کی بڑی کامیابی، مسلح افغان خارجی گرفتارپاکستان کے تجارتی خسارے میں اکتوبر کے دوران 20 فیصد اضافہ ریکارڈپاکستان اور برطانیہ کا انسدادِ دہشت گردی و سائبر کرائم میں تعاون بڑھانے پر اتفاقراولپنڈی: ہار لے اسٹریٹ پر فیملی پر تشدد، مرکزی ملزم گرفتاربلوچستان پولیس اور نادرا کے درمیان جدید ڈیجیٹل شناختی سروسز کا اہم معاہدہ
پاکستان

پاکستان کی سعودی عرب کے مقدس مقامات پر حوثی میزائل حملوں کی شدید مذمت

ترجمان دفتر خارجہ نے ریاض کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے مکہ الائنس برائے دفاع کے عزم کو دہرایا۔

پاکستان نے سعودی عرب کے مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے والے حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندر بی نے اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ان حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔

ترجمان نے واضح کیا کہ یہ حملے اسلامی مقدسات کے تقدس اور عام شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے کھلی بے حسی کا مظہر ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی برقرار رکھے گا اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے پرعزم ہے۔

پاکستان نے ان حملوں کے تناظر میں 'مکہ الائنس برائے دفاع' کے ساتھ اپنی وابستگی کو بھی دہرایا ہے۔ ترجمان کے مطابق، پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے تاکہ بیرونی جارحیت اور خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر متحرک ہے۔ حال ہی میں استنبول میں ہونے والے 'آر فور' (R4) وزارتی اجلاس کے دوران پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا تھا۔

اجلاس کے اعلامیے میں وزراء نے یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملوں کی مذمت کی تھی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی تنازعات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی ناگزیر ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق، 23 اکتوبر کو استنبول میں ہی پاکستان اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ نے فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے ہم منصبوں کے ساتھ بھی ملاقات کی تھی۔ ان مذاکرات میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، اسرائیل فلسطین تنازعہ اور بحری سلامتی جیسے امور پر بین الاقوامی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

سفارتی مصروفیات کے تسلسل میں، مکہ الائنس برائے دفاع کے سیکرٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود نے بھی 28 اکتوبر کو نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے دفتر خارجہ میں ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اتحاد کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔

پاکستان کی جانب سے ان حملوں کی مذمت ایک وسیع تر سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں پاکستان اپنے اہم بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ سکیورٹی اور سٹریٹجک تعاون کو مستحکم کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں برطانوی وزیر مملکت برائے سکیورٹی ڈین جا روس نے بھی 5 نومبر کو اسحاق ڈار سے ملاقات کی تھی۔

ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے افغانستان سے درپیش دہشت گردی کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے اس لعنت کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے 'آر فور پلس ای فور' (R4+E4) فریم ورک کے تحت سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

پاکستان نے سعودی عرب کے علاوہ دیگر برادر ممالک کے ساتھ بھی اپنے روابط کو تیز کیا ہے۔ حال ہی میں دفتر خارجہ نے یورپی یونین، آسیان ممالک اور عرب گروپ کے سفیروں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی کے امور کا جائزہ لیا گیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان اور چین کے درمیان بھی سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔ یکم نومبر کو چینی کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی شعبہ بین الاقوامی امور کے وزیر لیو ہائیکسین کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک نے سیاسی اور اقتصادی تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

پاکستان کی یہ تمام تر سفارتی سرگرمیاں اقتصادی شراکت داری کو وسعت دینے اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر مشترکہ سکیورٹی ترجیحات کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کے درمیان ہم آہنگی اور سفارتی بات چیت ہی واحد راستہ ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

پاکستان کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں