مواد پر جائیں
جمعہ، 6 نومبر 2026 26 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
ترک پارلیمنٹ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دیپشاور میں نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے جاں بحقایبٹ آباد اور دریا خان میں ٹریفک حادثات، 11 افراد جاں بحق، 30 زخمیپیرس اولمپک گولڈ میڈلسٹ ایمان خلیف کا پروفیشنل باکسنگ میں ڈیبیو کا اعلانانگلینڈ فٹ بال ٹیم: کول پامر ڈراپ، جوب بیلنگھم پہلی بار اسکواڈ میں شاملیوتھ اولمپک گیمز: ریان ملہان اور ژانگ یی شن نے بیڈمنٹن میں طلائی تمغے جیت لیےکرکٹ میں دھوکہ دہی کا اسکینڈل، برائن ڈیوائن پر دو سال کی پابندی عائداپر کرم میں سکیورٹی اداروں کی بڑی کامیابی، مسلح افغان خارجی گرفتارپاکستان کے تجارتی خسارے میں اکتوبر کے دوران 20 فیصد اضافہ ریکارڈپاکستان اور برطانیہ کا انسدادِ دہشت گردی و سائبر کرائم میں تعاون بڑھانے پر اتفاقراولپنڈی: ہار لے اسٹریٹ پر فیملی پر تشدد، مرکزی ملزم گرفتاربلوچستان پولیس اور نادرا کے درمیان جدید ڈیجیٹل شناختی سروسز کا اہم معاہدہیورپ بھر میں فضائی سفر متاثر، متعدد پروازوں کو بم کی دھمکیاںفرانس میں بس حادثہ، ایک بچے سمیت دو افراد ہلاک اور متعدد زخمیکرس جینر کی خفیہ شادی کی افواہیں، کو ری گیم بل کی پوسٹ نے مداحوں کو تجسس میں ڈال دیاانگلینڈ کو 2027 ورلڈ کپ تک فٹ ترین ٹیم بنانا ہدف ہے، ہیری بروکقائدِ اعظم ٹرافی: بابر اعظم کا مایوس کن مظاہرہ، آؤٹ ہونے پر غصے کا اظہارآئرلینڈ اور ارجنٹائن کی رگبی ٹیمیں نیشنز چیمپئن شپ میں مدمقابلپاکستان میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ سستا ہو گیاپاکستان کرکٹ بورڈ کا ابوظبی ٹی ٹین لیگ کے لیے کھلاڑیوں کو این او سی دینے کا فیصلہ
اسلام آباد

راولپنڈی: ہار لے اسٹریٹ پر فیملی پر تشدد، مرکزی ملزم گرفتار

راولپنڈی کے علاقے ہار لے اسٹریٹ پر گاڑی میں سوار فیملی پر تشدد اور فائرنگ کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظرِ عام پر آ گئی ہے۔

راولپنڈی کے گنجان آباد علاقے ہار لے اسٹریٹ میں گاڑی میں سوار ایک فیملی پر نامعلوم افراد کی جانب سے تشدد کیے جانے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا اور نیوز چینلز پر وائرل ہو گئی ہے جس نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ افراد نے زبردستی ایک گاڑی کو روکا اور اس میں سوار فیملی کو ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ ملزمان کی جانب سے گاڑی کے اندر موجود افراد پر تشدد کیا گیا جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

ویڈیو کلپ میں ایک خاتون کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جو انتہائی خوفزدہ حالت میں چیخ و پکار کر رہی ہیں اور ملزمان کے سامنے بیچ بچاؤ کی کوشش کر رہی ہیں۔ ملزمان کی جانب سے فیملی کے ساتھ بدتمیزی کا مظاہرہ کیا گیا اور گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا۔

متاثرہ فیملی کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ملزمان نے لڑائی جھگڑے کے دوران ہوائی فائرنگ بھی کی جس سے وہاں موجود لوگ خوفزدہ ہو گئے۔ فائرنگ اور تشدد کے اس واقعے کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی آر اے بازار پولیس کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس نے متاثرین کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے واقعے کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

پولیس حکام نے میڈیا کو بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت کا عمل مکمل کیا گیا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں واقعے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس سے مزید تفتیش جاری ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کو ٹھوس شواہد کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ اسے قانون کے مطابق سزا دلوائی جا سکے۔ تفتیشی ٹیمیں ملزم کے بیان کی روشنی میں دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لے رہی ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے بھی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ ان مفرور ملزمان کی تلاش میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ انہیں جلد از جلد قانون کی گرفت میں لایا جا سکے۔

محکمہ پولیس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکام کے مطابق تفتیش کو میرٹ پر مکمل کیا جائے گا اور کسی بھی مجرم کو رعایت نہیں ملے گی۔

ہار لے اسٹریٹ کے مکینوں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں گشت بڑھائی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے معاشرتی امن متاثر ہوتا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔

پولیس کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو جلد گرفتار کر کے چالان عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔ پولیس حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس اس واقعے کے بارے میں مزید معلومات ہوں تو وہ فوری طور پر قریبی تھانے سے رابطہ کریں۔

فی الحال پولیس تفتیش جاری ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی تمام ملوث افراد کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس واقعے کے بعد سے آر اے بازار اور گردونواح کے علاقوں میں سیکیورٹی کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

اسلام آباد کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں