امریکہ میں ایک وفاقی جج نے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ڈھائی سو فٹ اونچے فتح کے محراب کی تعمیر پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔
عدالتی حکم کے مطابق یہ 14 روزہ توقف تعمیراتی کاموں کو روکنے کے لیے جاری کیا گیا ہے تاکہ مقدمات کا قانونی جائزہ لیا جا سکے۔
اطلاعات کے مطابق اس سے قبل وفاقی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ جمعرات کے روز سے اس منصوبے پر کام کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔
نیشنل کیپیٹل پلاننگ کمیشن نے جمعرات کو طویل 9 گھنٹے پر محیط سماعت کے بعد اس منصوبے کی منظوری کے لیے آخری ووٹنگ کی تھی۔
کمیشن کی اس منظوری کے حق میں 8 اور مخالفت میں 4 ووٹ آئے تھے جبکہ درجنوں گواہوں نے اس منصوبے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔
جج تانیا چٹکن کا یہ عدالتی فیصلہ اس منصوبے کے خلاف دائر کردہ متعدد مقدمات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
ان مقدمات میں ویتنام جنگ کے سابق فوجیوں کی طرف سے فروری میں دائر کیا جانے والا ایک مقدمہ بھی شامل ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ یادگار آرلنگٹن نیشنل قبرستان کے قریب بنانے کی تجویز دی تھی جہاں جنگ کے شہداء اور سابق فوجی مد فون ہیں۔
مختلف حلقوں کی طرف سے یہ تشویش ظاہر کی گئی تھی کہ اس عمارت سے قبرستان اور لنکن میموریل کے درمیان کا نظارہ متاثر ہو سکتا ہے۔
سابق فوجیوں کی جانب سے عدالت میں دائر کی گئی دستاویزات میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ دونوں مقامات کے درمیان نظر کی سیدھ کو تاریخی طور پر انتہائی احتیاط سے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ نظارہ امریکی خانہ جنگی کے بعد ملک کے اتحاد اور طاقت کی علامت کی حیثیت رکھتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ تجویز گزشتہ برس امریکہ کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کے موقع پر پیش کی تھی اور اسے پیرس کے تاریخی محراب سے تشبیہ دی تھی۔
یادگار کی تعمیر کے علاوہ صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں دیگر کئی مختلف منصوبے بھی تجویز کر رکھے ہیں۔
اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے ایک اعلامیے پر دستخط کرتے ہوئے اپنے اوول آفس اور کابینہ کے کمرے کو قومی یادگار قرار دے دیا ہے۔
ماضی میں ان کے کئی منصوبوں کو عدالتی احکامات کے ذریعے روکا جا چکا ہے جبکہ حالیہ مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کے کانگریس پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ان منصوبوں کو مزید چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔


اپنی رائے دیں