محکمہ ریلوے نے تاجر برادری کے دیرینہ مطالبے اور ملکی معاشی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مال بردار ٹرینوں کی تعداد میں نمایاں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کی زیر صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس حوالے سے اہم اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔
اجلاس کے دوران ریلوے انتظامیہ کو جنوری 2027 تک 14 مال گاڑیاں چلانے کا واضح ٹارگٹ دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ریلوے کے فریٹ آپریشنز سے ہونے والی آمدن میں اضافہ کرنا اور ملکی تجارتی سرگرمیوں کو مزید فروغ دینا ہے۔
فریٹ آمدن کو بڑھانے کے لیے خانیوال میں ایک نیا ڈرائی پورٹ تعمیر کرنے کی باقاعدہ منظوری بھی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ٹرینوں کی اوور لوڈنگ کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے رواں سال 31 دسمبر تک ملک بھر میں مزید 5 وے برج نصب کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر ریلوے نے ریلوے کے نظام میں مکینیکل وجوہات کی بنا پر پیش آنے والے حالیہ حادثات کا سخت نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے ان حادثات کے ذمہ دار ٹرین ایگزامینرز کے خلاف ایف آئی اے کے ذریعے انکوائری کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اجلاس میں ریلوے کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ہیڈکوارٹرز کی سطح پر ہونے والی آپریشنل میٹنگز کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب یہ آپریشنل میٹنگز ڈویژن کی سطح پر منعقد ہوا کریں گی تاکہ مسائل کا فوری حل ممکن ہو سکے۔
ریلوے کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے سسٹم سے ڈی وی ایم اور ڈی وی ایس کوچز کو مرحلہ وار ختم کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ اس اقدام سے ریلوے کے انفراسٹرکچر کو جدید بنانے میں مدد ملے گی۔
پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے سلیپر فیکٹریوں میں ڈبل شفٹ میں کام کرنے کی سخت ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ وفاقی وزیر نے انجن اور کوچز کے پرزوں کی خریداری میں ہونے والی تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو کام کی رفتار تیز کرنے پر زور دیا۔
ایک الگ پیش رفت میں وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران صوبے میں موجود برانچ لائنوں کی بحالی کے لیے فنڈز کے فوری اجراء کی یقین دہانی کرائی گئی۔
محکمہ ریلوے کی جانب سے یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب حکومت ملک بھر میں نقل و حمل کے نظام کو بہتر بنانے اور ریلوے کے مالی خسارے کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
حکام کا ماننا ہے کہ مال بردار ٹرینوں کی تعداد میں اضافے سے نہ صرف تاجروں کو سہولت ملے گی بلکہ ریلوے کے ریونیو میں بھی خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔
خانیوال میں ڈرائی پورٹ کا قیام جنوبی پنجاب میں تجارتی مراکز کو ریلوے نیٹ ورک کے ساتھ مزید مضبوطی سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
ٹرین ایگزامینرز کے خلاف انکوائری کا فیصلہ ریلوے میں احتساب کے عمل کو تیز کرنے کی ایک کڑی ہے تاکہ مسافروں اور مال برداری کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان تمام فیصلوں پر دی گئی ڈیڈ لائنز کے اندر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔


اپنی رائے دیں