کراچی کے علاقے نیا ناظم آباد میں منگھو پیر روڈ پر قلندریہ چوک کے قریب ایک دو منزلہ عمارت کا حصہ اچانک زمین بوس ہو گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ روز پیش آیا جس کے بعد علاقے میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب عمارت کے نچلے حصے میں واقع مٹھائی کی ایک دکان میں تعمیراتی کام جاری تھا۔ اچانک چھت کا ایک حصہ گرنے سے وہاں موجود افراد ملبے تلے دب گئے، جس سے بھگدڑ مچ گئی۔
اطلاع ملتے ہی پولیس، امدادی ٹیمیں اور اربن سرچ اینڈ ریسکیو کا عملہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گیا۔ ریسکیو ٹیموں نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا۔
ریسکیو آپریشن کے دوران ملبے سے تمام متاثرہ افراد کو نکال کر فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال میں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے۔
سربراہ اربن سرچ اینڈ ریسکیو ہمایوں خان نے تصدیق کی ہے کہ ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور ملبے تلے مزید کسی کے دبے ہونے کا خدشہ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملبے کی مکمل تلاشی کے بعد آپریشن کو کامیابی سے ختم کر دیا گیا ہے۔
جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت عبدالباری کے طور پر ہوئی ہے، جن کی لاش کو ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کیا جائے گا۔ حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد کے حوالے سے ریسکیو حکام نے 6 افراد کے شدید زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اس واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ واقعے کی وجوہات کا تعین کیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ آیا اس میں کسی قسم کی غفلت برتی گئی تھی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اس بات پر زور دیا کہ حادثے کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں۔
اس کے علاوہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی سخت ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
زخمیوں کی تعداد کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ریسکیو حکام کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 6 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ امدادی ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر بروقت کارروائی کرتے ہوئے مزید نقصانات کو روکنے میں مدد کی۔
علاقہ مکینوں اور عینی شاہدین کے مطابق عمارت کافی پرانی تھی اور اس میں ہونے والا تعمیراتی کام غیر محفوظ طریقے سے کیا جا رہا تھا۔ تاہم اس حوالے سے حتمی رپورٹ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
انتظامیہ نے جائے وقوعہ کو سیل کر دیا ہے تاکہ مزید کسی بھی قسم کے حادثے سے بچا جا سکے۔ پولیس کی جانب سے بھی واقعے کی قانونی پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ حقائق تک پہنچا جا سکے۔


اپنی رائے دیں