نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کی کونسل آف منسٹرز کے اجلاس کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ یہ اجلاس وفاقی دارالحکومت میں 15 اور 16 نومبر 2026 کو منعقد کیا جائے گا۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، اس اجلاس میں خطے کے مختلف رکن ممالک کے وفود شرکت کریں گے۔ ان وفود کی آمد کا مقصد علاقائی تعاون کو مستحکم کرنے کے لیے نتیجہ خیز اور جامع بات چیت کرنا ہے۔
اجلاس کے دوران نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اب تک کی تیاریوں کے عمل پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو واضح ہدایات جاری کیں کہ وہ اجلاس کے کامیاب اور ہموار انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے آپس میں قریبی رابطہ کاری کو برقرار رکھیں۔
وزیر خارجہ نے اس موقع پر اقتصادی تعاون تنظیم کے مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان تنظیم کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔
اس اجلاس میں وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی جنہوں نے تیاریوں کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دی۔ حکام نے اجلاس کے انتظامات کو بروقت مکمل کرنے کے حوالے سے اپنی حکمت عملی سے بھی آگاہ کیا۔
پاکستان اس وقت اقتصادی تعاون تنظیم کی صدارت کے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ اس حیثیت سے پاکستان کی ترجیحات میں خطے کے اندر تجارت کے حجم کو بڑھانا اور اقتصادی انضمام کو فروغ دینا شامل ہے۔
اسلام آباد کی ترجیحات میں وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب سے ملانے والے ٹرانزٹ کوریڈورز اور مواصلاتی رابطوں کو مستحکم کرنا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل طور پر فعال ای سی او فری ٹریڈ ایریا کا قیام بھی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔
ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون کو بڑھانا بھی پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد خطے کے تقریباً پچاس کروڑ لوگوں کے لیے خوشحالی اور پائیداری کو یقینی بنانا ہے۔
اس سے قبل ستمبر 2026 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں اسحاق ڈار نے ای سی او کے 27 ویں غیر رسمی اجلاس کی صدارت کی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ امن اور لچکدار معیشت کے فروغ کے لیے اجتماعی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔
اقتصادی تعاون تنظیم کے بارے میں پس منظر کے طور پر یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ ایک بین الحکومتی تنظیم ہے جو خطے میں اقتصادی، تکنیکی اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کام کرتی ہے۔ پاکستان اس تنظیم کا ایک فعال رکن ہے اور اس کے پلیٹ فارم سے علاقائی روابط بڑھانے پر زور دیتا رہا ہے۔
آئندہ ہفتے منعقد ہونے والا یہ اجلاس اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔ توقع ہے کہ اس اجلاس سے خطے میں اقتصادی تعاون کے نئے راستے کھلیں گے۔

اپنی رائے دیں