مواد پر جائیں
جمعہ، 23 اکتوبر 2026 12 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: دوپہر 2:37
بریکنگ
دہشت گرد جہاں بھی ہوں گے، سخت جواب ملے گا: فیلڈ مارشل سید عاصم منیربھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں جاری رہیں گی: فیلڈ مارشل عاصم منیرراولپنڈی: گھر سے دو خواتین کی تشدد زدہ لاشیں برآمد، مقدمہ درجوفاق کا خیبرپختونخوا کیلئے 160 ارب روپے کے فنڈز کی فراہمی کا وعدہدہشت گردوں کو ہر جگہ نشانہ بنائیں گے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیرایرانی پاسداران انقلاب کا خلیج فارس میں 7 غیر ملکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰلاہور کی فضا زہریلی، ایئر کوالٹی انڈیکس 300 سے تجاوز کر گیابلوچستان کے علاقے دالبندین میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.1 ریکارڈکراچی: آن لائن نیٹ ورک کے شکنجے میں پھنسی 13 سالہ بچی کو بازیاب کر لیا گیالاہور: مزنگ میں اسکوٹی سوار لڑکی پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتارگوادر میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا بڑا حملہ ناکام بنا دیامشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگی خطرات میں اضافہامریکا کا کینیڈا پر وسط مدتی انتخابات میں مداخلت کا الزامکراچی: ڈارک ویب کے خطرناک ٹاسک میں پھنسی 13 سالہ بچی بازیابجماعت اسلامی کا آج ملک بھر کے 150 شہروں میں احتجاج اور دھرنوں کا اعلانکراچی میں فائرنگ کے مختلف واقعات، ایک شخص جاں بحق اور 3 خواتین زخمیسعودی عرب: دمام ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہوگئیجامعہ کراچی میں طلبہ یونین کے انتخابات نہ کرانے پر رجسٹرار طلبراولپنڈی: حنا جاوید قتل کیس کی لرزہ خیز پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تصاویر سامنے آئیںسپریم کورٹ بار انتخابات: 29 اکتوبر کو ووٹنگ کا انعقاد کیا جائے گا
پاکستان

پتنگ بازی کیس: لاہور ہائیکورٹ نے ایس پی شیخوپورہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

لاہور ہائیکورٹ نے شہری کے کریانہ سٹور سے پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر رقم لے جانے کے معاملے پر توہین عدالت کی درخواست پر ایس پی شیخوپورہ کو 29 اکتوبر کو طلب کیا ہے۔

پتنگ بازی کیس: لاہور ہائیکورٹ نے ایس پی شیخوپورہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

لاہور ہائیکورٹ نے پتنگ بازی کے ایک پرانے مقدمے میں ملوث نوجوان کے کریانہ سٹور سے ساٹھ ہزار روپے مبینہ طور پر لے جانے کے معاملے پر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے ایس پی شیخوپورہ غلام عباس کو 29 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

جسٹس شہرام سرور چوہدری نے شہری محمد اشرف کی جانب سے دائر کردہ توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے بیٹے کے خلاف تھانہ صدر فاروق آباد میں پتنگ بازی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کی کارروائی کے دوران پولیس اہلکار درخواست گزار کے کریانہ سٹور پر پہنچے اور وہاں سے ساٹھ ہزار روپے کی نقدی مبینہ طور پر اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مذکورہ مقدمہ اب خارج ہو چکا ہے اور درخواست گزار کا بیٹا بری ہو چکا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ مقدمے سے بریت اور ایف آئی آر کے خاتمے کے باوجود پولیس اہلکاروں کی جانب سے لی گئی رقم تاحال واپس نہیں کی گئی ہے۔ اس معاملے پر انصاف کے حصول کے لیے متعلقہ حکام سے بھی بارہا رجوع کیا گیا تھا مگر کوئی شنوائی نہ ہو سکی۔

وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ اس سے قبل بھی لاہور ہائیکورٹ نے ڈی پی او شیخوپورہ کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی واضح ہدایت کی تھی، تاہم عدالتی حکم کے باوجود تاحال اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا جو کہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کرنے پر متعلقہ پولیس افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عدالت نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ایس پی شیخوپورہ کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

عدالت میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق، یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب پولیس نے پتنگ بازی کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران درخواست گزار کے بیٹے کو نامزد کیا تھا۔ اس دوران پولیس کی جانب سے سٹور سے رقم اٹھانے کا الزام لگایا گیا جو کہ ایک سنگین معاملہ ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق، کسی بھی مقدمے کے دوران پولیس کی جانب سے کسی شہری کی نجی ملکیت یا نقدی کو قبضے میں لینے کے لیے قانونی ضابطہ کار کا ہونا ضروری ہے۔ اگر رقم بغیر رسید یا قانونی جواز کے لی گئی ہے تو یہ محکمہ پولیس کے لیے سوالیہ نشان ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر پولیس کے اعلیٰ حکام کو بھی درخواستیں دی تھیں لیکن کسی نے بھی ان کی دادرسی نہیں کی۔ اس مایوسی کے بعد ہی انہوں نے دوبارہ لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ انصاف مل سکے۔

عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران پولیس کے رویے پر برہمی کا اظہار کیا اور ایس پی شیخوپورہ کو طلب کر کے معاملے کی وضاحت مانگی ہے۔ اب 29 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں پولیس حکام کو اپنا مؤقف پیش کرنا ہوگا کہ رقم کیوں واپس نہیں کی گئی۔

پتنگ بازی کے خلاف پنجاب بھر میں پولیس کی جانب سے مہم جاری رہتی ہے، تاہم اس دوران شہریوں کی جانب سے پولیس کے غیر قانونی اقدامات یا بدسلوکی کی شکایات بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ عدالتیں ایسے معاملات میں شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحرک رہتی ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب عدالتی حکم کے باوجود ڈی پی او آفس کی جانب سے کارروائی نہ کی گئی۔ توہین عدالت کی کارروائی کا مقصد عدالتی احکامات کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے تاکہ کسی بھی شہری کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔

اب تمام تر نظریں 29 اکتوبر کی سماعت پر مرکوز ہیں جہاں ایس پی شیخوپورہ غلام عباس عدالت میں پیش ہو کر اس معاملے پر جواب دیں گے۔ عدالت کا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا پولیس اہلکاروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے گی یا نہیں۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں