مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید کارروائی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی فوجی افسران کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران سے اسرائیل کے وجود کو خطرات لاحق ہیں اور ایرانی سپریم لیڈر نے ایک بار پھر ایٹم بم تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار اسرائیل ٹرمپ سے پوچھے بغیر ایران پر حملہ کرے گا اور ایران میں حکومت کا تختہ الٹنا ہی واحد حل ہے۔
دوسری جانب ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ چھڑتی ہے تو جوابی حملے جاری رکھنے کے لیے ضروری وسائل موجود ہیں جبکہ انٹرنیٹ کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات بھی نشانے پر آسکتی ہیں۔
محسن رضائی نے کہا کہ اگر ایران کے خلاف ایک اور جنگ شروع کی گئی تو خطے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد دس گنا زیادہ ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک اب ایران کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کر رہے ہیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے میں دو افراد کی ہلاکت اور آبنائے ہرمز میں تناؤ کے باعث عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل کی قیمت 112 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق سعودی عرب کی معیشت پر ان حملوں کا اثر فی الحال محدود ہے، تاہم جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال بدستور ایک بڑا خطرہ ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق رواں سال سعودی معیشت کے حجم میں 3.3 فیصد تک کمی کی توقع ہے۔
ایران کے اندر بھی معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے جس کے پیشِ نظر ایرانی حکام نے بینکوں سے امریکی ڈالر خریدنے کے خواہشمند افراد کے لیے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ اب خریدار یومیہ ایک ہزار ڈالر تک کی خریداری کر سکتے ہیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے انتخابات کے بعد ایران کے جوہری مراکز، میزائل ذخائر اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی کی ہے۔ دونوں ممالک کی افواج ممکنہ حملوں کی مشقیں بھی تیز کر چکی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی نقل و حرکت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مختلف مشنز کے لیے آپریشنل تیاری بہتر بنانے کے لیے امریکی فوج معمول کے مطابق اہلکاروں اور سازوسامان کی نقل و حرکت کرتی رہتی ہے۔
محسن رضائی نے یمن کے حوثی باغیوں کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حوثی کوئی ایرانی ملٹری یونٹ نہیں ہیں اور یمنی سرزمین سے متعلق تمام فیصلے یمنی خود کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران آبنائے ہرمز کا ذمہ دار ہے، باب المندب کا نہیں۔
عالمی سطح پر جاری ان تنازعات نے خطے کے ممالک کو بھی اپنی خارجہ پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ خلیجی ممالک میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث سفارتی سطح پر بھی ہلچل دیکھی جا رہی ہے اور مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
موجودہ صورتحال میں عالمی برادری کی جانب سے کشیدگی میں کمی لانے کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ تاہم، فریقین کے سخت بیانات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں خطے میں سفارتی اور عسکری محاذ پر مزید کشیدگی کا امکان موجود ہے۔





اپنی رائے دیں