لاہور کے گنجان آباد علاقے مزنگ میں اسکوٹی پر سوار ایک لڑکی کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کی۔
واقعے کی دستیاب تفصیلات کے مطابق موٹرسائیکل پر سوار ایک شخص نے اسکوٹی پر جانے والی لڑکی کا پیچھا کیا اور اسے اوورٹیک کر کے زبردستی روک لیا۔ ملزم نے موٹرسائیکل سے اترتے ہی لڑکی پر حملہ کر دیا اور اسے زمین پر پٹخ دیا۔
اس دوران ملزم نے لڑکی کے بال کھینچے، اسے گالم گلوچ کی اور شدید ہراساں کیا۔ موقع پر موجود شہریوں نے بروقت مداخلت کر کے لڑکی کو مزید تشدد سے بچایا، جس کے بعد ملزم اپنی موٹرسائیکل چھوڑ کر موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
ملزم نے لڑکی کا بیگ بھی چھین کر زمین پر دے مارا جس کے نتیجے میں اس میں موجود 85 ہزار روپے مالیت کا لیپ ٹاپ بھی ٹوٹ گیا۔ اس بہیمانہ تشدد کے نتیجے میں لڑکی کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اس کے چہرے پر بھی گہرے زخم آئے۔
واقعے کے فوراً بعد مقامی افراد نے موقع پر موجود ملزم کی موٹرسائیکل اپنی تحویل میں لے لی اور اسے پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں نامعلوم ملزم کے خلاف تھانہ مزنگ میں مقدمہ درج کر لیا تھا۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملزم کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے تھے۔ اعلیٰ حکام کی ہدایت پر ایس پی سول لائنز منزہ کرامت کی نگرانی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تاکہ ملزم تک پہنچا جا سکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے چھاپہ مار کر ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد اب اس سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ واقعے کے محرکات اور دیگر پہلوؤں کا تعین کیا جا سکے۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ خواتین پر تشدد کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ملزم کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دلوائی جائے گی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
خواتین کے تحفظ کے حوالے سے پنجاب پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ معاشرے میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات ناقابلِ برداشت ہیں۔ پولیس ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج نے شہریوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ایک تنہا لڑکی کو سرعام ہراساں اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس پر عوامی حلقوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
پولیس کی جانب سے بروقت کارروائی اور ملزم کی گرفتاری کے بعد متاثرہ خاندان نے انصاف کی امید ظاہر کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کے تمام پہلوؤں کو میرٹ پر دیکھا جائے گا اور تفتیش کے بعد چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
مزنگ کے علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں گشت بڑھانے کے احکامات بھی دیے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا ہراسانی کے واقعے کی اطلاع فوری طور پر ون فائیو پر دیں۔
پولیس کے مطابق ملزم سے تفتیش کے دوران مزید انکشافات متوقع ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ شہر میں خواتین کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جائے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔





اپنی رائے دیں