تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنی سمندری حدود میں سات غیر ملکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ کارروائی خلیج فارس کے مختلف حصوں میں کی گئی جس نے خطے کی صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔
پاسداران انقلاب کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ان میں سے چار بحری جہازوں کو شمالی خلیج فارس میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ مبینہ طور پر تیل کی غیر قانونی منتقلی میں مصروف تھے۔ یہ کارروائی ایران کی جانب سے اپنی سمندری حدود کے تحفظ کے لیے کی گئی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ باقی تین بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز کے حساس علاقے میں بارودی سرنگوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ یہ علاقہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے جہاں اکثر کشیدگی دیکھی جاتی ہے۔
اس واقعے کے بعد ایرانی حکام کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے جارحانہ رویہ برقرار رکھا گیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج فارس میں امن کا راستہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب امریکا یہ تسلیم کر لے کہ اس معاملے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں ہے۔
ایک برطانوی اخبار کے لیے لکھے گئے اپنے مضمون میں عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ ایک منصفانہ اور باوقار سمجھوتہ کرنے کا خواہشمند ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران بھی یہ پیغام پہنچایا گیا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق، اس مقصد کے حصول کے لیے وائٹ ہاؤس کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکا کو اپنی جارحانہ پالیسیوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی حقیقی خواہش کا عملی اظہار کرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ہونے والے حالیہ واقعات نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں اور سمندری راستوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان براہ راست بات چیت ہی اس بحران کو مزید بڑھنے سے روکنے کا واحد طریقہ ہو سکتی ہے۔
ایران کا موقف ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سمندری حدود کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ تہران نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے کے معاملات میں بیرونی مداخلت ہی عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔
امریکی حکومت کی جانب سے تاحال اس واقعے اور پاسداران انقلاب کے دعووں پر کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، خطے میں امریکی بحری موجودگی اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں یہ پیشرفت انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں خلیج فارس میں سیکیورٹی کے معاملات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے فریقین پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے زور دیا جا رہا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری یہ کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، پس پردہ رابطوں کی کوششیں جاری ہیں تاکہ کسی بھی بڑی فوجی تصادم کو روکا جا سکے۔





اپنی رائے دیں