مواد پر جائیں
جمعہ، 23 اکتوبر 2026 12 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 3:17
بریکنگ
لسبیلہ میں کوچ اور وین میں خوفناک تصادم، 12 افراد جاں بحقدہشت گرد جہاں بھی ہوں گے، سخت جواب ملے گا: فیلڈ مارشل سید عاصم منیربھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں جاری رہیں گی: فیلڈ مارشل عاصم منیرراولپنڈی: گھر سے دو خواتین کی تشدد زدہ لاشیں برآمد، مقدمہ درجوفاق کا خیبرپختونخوا کیلئے 160 ارب روپے کے فنڈز کی فراہمی کا وعدہدہشت گردوں کو ہر جگہ نشانہ بنائیں گے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیرایرانی پاسداران انقلاب کا خلیج فارس میں 7 غیر ملکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰلاہور کی فضا زہریلی، ایئر کوالٹی انڈیکس 300 سے تجاوز کر گیابلوچستان کے علاقے دالبندین میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.1 ریکارڈکراچی: آن لائن نیٹ ورک کے شکنجے میں پھنسی 13 سالہ بچی کو بازیاب کر لیا گیالاہور: مزنگ میں اسکوٹی سوار لڑکی پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتارگوادر میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا بڑا حملہ ناکام بنا دیامشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگی خطرات میں اضافہامریکا کا کینیڈا پر وسط مدتی انتخابات میں مداخلت کا الزامکراچی: ڈارک ویب کے خطرناک ٹاسک میں پھنسی 13 سالہ بچی بازیابجماعت اسلامی کا آج ملک بھر کے 150 شہروں میں احتجاج اور دھرنوں کا اعلانکراچی میں فائرنگ کے مختلف واقعات، ایک شخص جاں بحق اور 3 خواتین زخمیسعودی عرب: دمام ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہوگئیلاہور میں بسنت 2027 کے انعقاد کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاریکراچی میں سی ٹی ڈی اور حساس ادارے کی کارروائی، 3 دہشت گرد گرفتار
جرم و سزا

راولپنڈی: حنا جاوید قتل کیس کی لرزہ خیز پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تصاویر سامنے آئیں

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مقتولہ پر بہیمانہ تشدد اور جسم پر گہرے زخموں کی تصدیق کر دی گئی۔

راولپنڈی: حنا جاوید قتل کیس کی لرزہ خیز پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تصاویر سامنے آئیں

راولپنڈی میں پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے قتل کے واقعے میں مقتولہ حنا جاوید کے کیس کے حوالے سے انتہائی لرزہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اس افسوسناک واقعے کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور جسمانی تشدد کو ظاہر کرتی ہوئی تصاویر نے ہر ذی روح کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے علاقے میں بیس اگست کو پیش آنے والے اس واقعہ میں مقتولہ کو مبینہ طور پر اس کے سسرال میں انتہائی بے دردی سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ ابتدائی طبی و قانونی معائنے کی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ موت سے قبل خاتون کو شدید ترین جسمانی اذیت دی گئی۔

پولیس ذرائع اور سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق مقتولہ حنا جاوید کے جسم کے مختلف حصوں پر تشدد کے گہرے نشانات واضح طور پر پائے گئے۔ ان میں چہرہ، گردن، بازو اور ہاتھ شامل ہیں جہاں سفاکانہ تشدد کی داستانیں صاف دکھائی دیتی ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مقتولہ کے ہونٹ بھی پھٹے ہوئے تھے جبکہ جسم کے متعدد مقامات پر نیل کے گہرے نشانات موجود تھے۔ اس کے علاوہ حنا جاوید کے سر کے پچھلے حصے پر ستائیس سینٹی میٹر طویل ایک گہرا زخم بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

طبی ماہرین کی مرتب کردہ اس ابتدائی رپورٹ میں یہ بھی درج کیا گیا ہے کہ بدقسمت خاتون کی گردن بھی ٹوٹی ہوئی پائی گئی۔ چہرے پر موجود زخموں کی نوعیت اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ اسے قتل کرنے سے قبل شدید ترین جسمانی تکلیف سے گزارا گیا۔

سب سے زیادہ ہولناک انکشاف یہ سامنے آیا کہ مقتولہ حنا جاوید کی کہنیوں میں مبینہ طور پر اسکرو ڈرائیور کے ذریعے سوراخ کیے گئے۔ اس کے دونوں بازوؤں پر بھی تشدد اور درندگی کے واضح اور گہرے نشانات دیکھے جا سکتے ہیں۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اندرونی اعضا بھی اس وحشیانہ تشدد کی گواہی دے رہے ہیں کیونکہ مقتولہ کے پھیپھڑوں میں خون بھرا ہوا پایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دل کے اردگرد موجود جھلی یعنی پیراکارڈیم میں بھی خون جمع ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

ابتدائی تحقیقاتی تفصیلات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حنا جاوید کو بیس اگست کو مبینہ طور پر اس کے سسرال کے اندر ہی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ سفاکیت کا یہ عالم تھا کہ قتل کی واردات کے بعد مقتولہ کی لاش کو باتھ روم میں شاور کے ساتھ لٹکا دیا گیا تاکہ اسے خودکشی کا رنگ دیا جا سکے۔

اس المناک واقعے کا مقدمہ تھانہ سول لائنز راولپنڈی میں درج کیا جا چکا ہے اور پولیس اس معاملے کی مختلف زاویوں سے تفتیش کر رہی ہے۔ قتل کے اس مقدمے میں نامزد مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر اور گھر کا ملازم ذیشان ارشد اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں بند ہیں۔

دوسری جانب مقتولہ کے غم زدہ اہلخانہ نے شروع ہی سے پولیس کی جانب سے کی جانے والی تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ لواحقین کا مطالبہ ہے کہ اس پورے سانحے کی شفاف اور منصفانہ تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔

پولیس ریکارڈ اور ابتدائی تفتیشی کارروائیوں کے مطابق عدالت کی جانب سے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجے جانے کے بعد مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔ اس سنگین جرم کے خلاف معاشرے کے مختلف حلقوں میں بھی شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

عوام اور سوسائٹی کے مختلف طبقات کی جانب سے اس بہیمانہ تشدد اور اندوہناک قتل کے تمام ذمہ داران کو قرار واقع سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ قانون کے کٹہرے میں لا کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔

مقتولہ کے لواحقین اور دیگر انصاف پسند شہریوں کی نظریں اب اس کیس کی عدالت میں ہونے والی باضابطہ سماعتوں پر لگی ہوئی ہیں۔ تمام متعلقہ ادارے اس ہولناک کیس کے ہرپہلو کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اصل مجرمان قانون کی گرفت سے نہ بچ سکیں۔

جرم و سزا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں