مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: شام 6:18
تازہ
محکمہ موسمیات کی پیشگوئی، ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہے گاریاضی کی دلچسپ پہیلی، کیا آپ گمشدہ ہندسہ تلاش کر سکتے ہیں؟ملک میں زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے، پاکستان کسان اتحاد کا مطالبہپاکستان کی اسی فیصد کم آمدن والی آبادی دیہی علاقوں کی مکین ہے، عالمی بینکایمنڈ کے انتخابات، اظہر عباس صدر اور طارق محمود جنرل سیکرٹری منتخباسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، سفارت کاری پر زورخیبر پختونخوا میں مائننگ لائسنسز اور مبینہ بے ضابطگیوں پر اہم انکشافاتبیوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت پر وزیر دفاع خواجہ آصف کے سوالاتنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہدہشت گردی کے نام پر سیاست نہیں ہونی چاہیے: بلاول بھٹودہشت گردی کیخلاف جنگ کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹوامریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی ضمانت کا مطالبہمعیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا اولین ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریفلاہور بورڈ کا کھیلوں کے فروغ کیلئے بجٹ بڑھا کر ساڑھے 6 کروڑ کر دیا گیاپاکستان کا پہلا خلا باز 25 نومبر کو خلائی مشن پر روانہ ہوگا، احسن اقباللاہور میں پٹرولنگ آفیسر سے بدتمیزی کرنے والا نوجوان گرفتار، مقدمہ درجلاہور میں پولیس حراست میں موجود ملزم ہسپتال میں دم توڑ گیاپنجاب پولیس کے سب انسپکٹرز کی ترقی کے لیے کمیٹی کا اجلاس کل ہوگامالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو 20 تا 22 اکتوبر پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گےلاہور کے گلاب دیوی اسپتال میں ہنگامہ، ڈاکٹرز اور لواحقین میں جھگڑا
کاروبار

پاکستان کی اسی فیصد کم آمدن والی آبادی دیہی علاقوں کی مکین ہے، عالمی بینک

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق ملک کے متوسط اور غریب طبقات اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔

پاکستان کی اسی فیصد کم آمدن والی آبادی دیہی علاقوں کی مکین ہے، عالمی بینک

عالمی بینک نے پاکستان میں غربت اور معاشی صورتحال سے متعلق اپنی ایک نئی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی کم آمدن والی اسی فیصد آبادی کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔

دیہی علاقوں میں مقیم اس کم آمدن والی آبادی کو روزمرہ زندگی میں مختلف سماجی اور معاشی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان علاقوں میں بنیادی سہولیات اور وسائل کی کمی غربت کے خاتمے کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔

رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان خوراک پر ہونے والے اخراجات میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ ملک کا متمول اور امیر طبقہ اپنی کل آمدنی کا تقریباً بیس سے تیس فیصد حصہ خوراک پر خرچ کرتا ہے۔

اس کے برعکس، متوسط اور غریب طبقات کی ایک بہت بڑی تعداد اپنی مجموعی آمدن کا ستر سے اسی فیصد حصہ صرف خوراک کی بنیادی ضروریات کی تکمیل پر خرچ کرنے پر مجبور ہے۔

اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے یہ کم آمدنی والے طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ مہنگائی کی لہر غریب خاندانوں کے لیے غذائی تحفظ کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔

عالمی بینک کی اس رپورٹ کے مطابق اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے دوران مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے خطے میں غربت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

تاہم دو ہزار انیس کے بعد یہ مثبت پیش رفت رک گئی اور کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے نتیجے میں خطے میں غربت کی شرح میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دو ہزار چوبیس کے دوران اس خطے کی چودہ اعشاریہ تین فیصد آبادی یومیہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر گزارا کر رہی تھی۔

بین الاقوامی سطح پر یومیہ تین ڈالر سے کم آمدنی والی آبادی کی شرح دس اعشاریہ چار فیصد ہے، جو خطے کی صورتحال کو زیادہ تشویشناک بناتی ہے۔

اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے ممالک میں چھبیس اعشاریہ نو فیصد آبادی کی یومیہ آمدنی چار اعشاریہ بیس ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

دنیا بھر میں چار اعشاریہ بیس ڈالر یومیہ آمدنی والی آبادی کی اوسط شرح اٹھارہ اعشاریہ نو فیصد ہے، جو خطے کے اعداد و شمار سے نمایاں طور پر کم ہے۔

عالمی بینک کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ غربت کی شرح سے جڑے یہ منفی معاشی رجحانات دو ہزار چھبیس تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور زرعی شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب ملک میں غربت کی شرح میں کمی لانے اور عوام کے وسائلِ آمدن کے فروغ کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد جاری ہے۔

حکومت کا مقصد ان اقدامات کے ذریعے معاشرے کے پسماندہ اور کم آمدنی والے طبقات کی مالی حالت بہتر بنانا اور ان کی آمدنی میں اِضافہ کو یقینی بنانا ہے۔

کاروبار کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں